خطبات محمود (جلد 37) — Page 125
$1956 125 خطبات محمود جلد نمبر 37 تیاری کے سلسلہ میں بہت زیادہ محنت کی تھی۔اس دفعہ پھر تحریک جدید کے وکیل اعلیٰ میرے پاس آئے اور کہا کہ بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں جو مشکلات ہیں اُن کے دور کرنے میں رہے ہماری راہنمائی فرمائیں۔حالانکہ وہ خود مالیات کے ماہر ہیں اور گورنمنٹ کے سیکرٹری ، ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ میں بیماری کی وجہ سے مجبور ہوں میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔آپ قریشی عبدالرشید صاحب کو ساتھ لے لیں اور بجٹ پر غور کر کے ان مشکلات کا حل تلاش کر لیں۔چنانچہ وہ واپس چلے گئے اور قریشی عبدالرشید صاحب سے مل کر انہوں نے بجٹ پر غور کیا اور آخر تمام مشکلات حل ہو گئیں۔اسی طرح صدر انجمن احمدیہ میں اختر صاحب آئے۔انہیں سرکاری ملازمت کا تجربہ تھا۔انہوں نے چند نوجوانوں سے مل کر عملہ میں کانٹ چھانٹ شروع کی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے اخراجات کم ہو گئے۔پس اگر نوجوان اپنے اندر انتظامی قابلیت پیدا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کا جماعت میں اعزاز نہ ہو اور انہیں مرکز میں اہم عہدوں پر نہ لگایا جائے۔اس کے علاوہ خود واقفین کو بھی اپنے وقار اور عزت نفس کا خیال رکھنا در چاہیے۔مجھے ایک دوست نے بتایا کہ میں کسی دوسرے ملک میں جا رہا تھا کہ مجھے ایک عالم نے کہا کہ مانگنا تو بُری بات ہے لیکن اگر آپ میرے لیے کوئی تحفہ لانا چاہیں تو فلاں چیز لے آئیں۔حالانکہ ہمیں تو غیرت کا ایسا نمونہ دکھانا چاہیے کہ اگر کسی وقت ہمارے منہ سے غلطی سے ایسی بات نکل بھی جائے اور دوسرا ہمارے لیے کوئی چیز لے آئے تب بھی ہم وہ چیز قبول نہ کریں اور کہیں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی تھی کہ میں نے آپ سے اس کا ذکر کر دیا۔اب آپ یہ چیز کسی دوسرے کو دے دیں۔میں یہ لینے کے لیے تیار نہیں۔اور اگر پھر بھی وہ دینے پر اصرار کرے تو اُسے اس کی قیمت ادا کر دی جائے۔میرے ساتھ حال ہی میں یہ واقعہ ہوا ہے کہ ہمارے ایک دوست بجلی کا پنکھا لینے کے لیے گئے۔وہاں کوئی شخص ایک خاص قسم کے پنکھے کا آرڈر دے رہا تھا۔ہمارے اس دوست کے دریافت کرنے پر اُس نے بتایا کہ میں یہ پنکھا اپنے پیر کے لیے بنوا رہا ہوں۔انہوں نے کہا میرے پیر کے لیے بھی ایک پنکھا بنوا دیں۔چنانچہ وہ ایک پنکھا بنوا کر