خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 116

خطبات محمود جلد نمبر 37 116 $1956 ماں کو بلایا اور اس کی ملاقات کا انتظام کر دیا۔اس نے کہا میں نے اپنی ماں کو علیحدگی میں ملنا کی ہے۔چنانچہ پردہ ڈال دیا گیا تا وہ اپنی ماں سے علیحدگی میں بات کر لے۔جب اس کی ماں اُس سے علیحدگی میں ملنے کے لیے گئی تو اُس نے کہا میں تمہارے کان میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔چنانچہ اس نے اپنا کان اس کی طرف کر دیا۔اُس کا اس طرف کان جھکانا تھا کہ یکدم وہ چیخنے لگ گئی اور اس نے کہنا شروع کر دیا ہائے! میں مرگئی۔ہائے! میں مرگئی۔پولیس نے آواز سنی تو وہ دوڑ کر اندر آئی اور اس نے دیکھا کہ اس نے اپنی ماں کا کان دانتوں سے کاٹ لیا ہے اور اس کا تمام جسم اور کپڑے خون سے لت پت ہیں۔یہ نظارہ دیکھ کر پولیس کے آدمیوں نے اسے ملامت کی اور کہا کہ تجھ سے بڑا ظالم اور کون ہو گا کہ تو نے موت کے وقت اپنی والدہ سے اتنی ظالمانہ حرکت کی۔پھر اگر پھانسی سے بڑھ کر کوئی اور سزا ہوتی تو تم اس کے قابل تھے۔اس پر اُس نے کہا تمہیں کیا پتا؟ پھانسی کی سزا دراصل مجھے میری والدہ نے ہی دلائی ہے۔بچپن میں مجھے عادت تھی کہ میں سکول جاتا تو کسی لڑکے کی پنسل یا دوات پُر الا تا اور گھر آ کر والدہ کو دے دیتا۔جب پنسل اور دوات کے مالک گھر آتے تو بجائے اس کے کہ وہ مجھے ڈانٹتی اُلٹا آنے والوں سے لڑنا شروع کر دیتی اور کہتی کہ میرا بچہ چور نہیں حالانکہ اسے علم ہوتا تھا کہ میں وہ چیزیں چرا کر لایا ہوں۔اس پر میں دلیر ہو گیا اور بڑی بڑی چوریاں شروع کر دیں لیکن میری والدہ ان پر بھی پردہ ڈالتی رہی۔پھر میں نے چوروں کی صحبت اختیار کی اور گھروں کو لوٹنا شروع کیا لیکن اُس وقت بھی میری والدہ کو خیال نہ آیا کہ وہ مجھے منع کر۔ہر دفعہ میرے قصور کو چھپانے کی کوشش کرتی اور اگر کوئی شخص آکر پوچھتا تو اُس سے لڑتی اور کہتی کہ میرا لڑکا چور نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایک چوری کے دوران میں لڑائی ہو گئی اور مجھ سے ایک شخص قتل ہو گیا جس کی پاداش میں آج مجھے پھانسی پر لٹکایا جا رہا ہے۔اگر میری والدہ شروع میں ہی مجھے چوری سے باز رکھتی اور میری چوریوں پر پردہ نہ ڈالتی تو مجھے بڑی چوریوں کے لیے دلیری نہ ہوتی اور مجھے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔پس حقیقت یہی ہے کہ ماں باپ کی تربیت بچوں پر بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے۔جن بچوں کے والدین بچپن سے ہی اُن کے کانوں میں یہ بات ڈالتے رہتے ہیں کہ انہوں نے وہ