خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 91

$1956 91 خطبات محمود جلد نمبر 37 نہیں رہنے دیا۔بلکہ وہاں بھی ایک جرمن ڈاکٹر کو جو میڈیسن کے ڈاکٹر ہیں ان کے ذریعہ احمدیت میں داخل کرا دیا۔اب دیکھو! یہ الہی فضل ہے جو ان کے اخلاص کی وجہ سے ان پر نازل ہوا ورنہ چودھری عبداللطیف صاحب کی بیوی شروع میں غیر احمدی تھی اور مجھے یہ بات پسند نہیں تھی کہ ان کی شادی اس جگہ ہو۔لیکن چونکہ ان کے ماں باپ نے اصرار کیا اس لیے میں نے بھی اجازت دے دی لیکن خدا تعالیٰ نے اس عورت کو اسلام کی خدمت کی توفیق و اور وہ اس طرح کام کر رہی ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ کام کی جتنی توفیق اسے ملی ہے اتنی کسی پرانی احمدی عورت کو بھی نہیں ملی۔پھر چودھری عبداللطیف صاحب بھی بڑے نیک نوجوان ہیں۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ میں جرمنی میں ایک ڈاکٹر سے مشورہ لینے موٹر پر جا رہا تھا کہ میرے ساتھ ہی اگلی سیٹ پر ایک ہندو ڈاکٹر بیٹھا تھا۔جو ہیں سال سے جرمنی میں رہتا ہے۔وہ مڑ کر کہنے لگا میں دہر یہ ہو چکا تھا لیکن آپ کے مبلغ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے میں دین کا قائل ہو گیا ہوں۔میں نے کہا میں تو اُس وقت تک یہ بات نہیں مانوں گا جب تک تم پورے مسلمان نہ ہو جاؤ۔وہ کہنے لگا اللہ تعالیٰ لطیف صاحب کو سلامت رکھے۔اگر اُن کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا رہا تو میں پورا مسلمان بھی ہو جاؤں گا۔پھر ان کی بیوی کے اندر تبلیغ کا اس قدر احساس پایا جاتا ہے کہ وہاں ایک عورت ہے جو مرتد ہو چکی ہے۔ایک دن جس ہوٹل میں ہم ٹھہرے تھے اس میں وہ بھی آ گئی۔لیکن جونہی وہ عورت ہوٹل میں آئی عبداللطیف صاحب کی بیوی اُس سے بڑی محبت کے ساتھ ملی اور اُس کی خاطر تواضع کرنے لگ گئی۔جب وہ واپس چلی گئی تو ہماری عورتوں نے اس سے کہا کہ تم تو کہتی تھیں کہ یہ عورت مرتد ہو گئی ہے اور سلسلہ کی مخالفت کرتی ہے اور اب وہ آئی ہے تو تم نے اُس کی خاطر تواضع شروع کر دی ہے۔وہ کہنے لگی کہ اگر ہم اس طرح نہ کریں تو یہ لوگ مسلمان کیسے ہوں۔غرض ان کی بیوی بھی تبلیغ کے کام میں ان کا پورا پورا ہاتھ بٹا رہی ہیں لیکن افسوس ہے کہ ان کی صحت اچھی نہیں۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے تا کہ جرمنی میں تبلیغ کا کام اور بھی زیادہ وسیع ہو سکے۔اس وقت وہ سلسلہ کے چوٹی کے مخلص نوجوانوں میں سے ہیں اور ابھی تک چودھری