خطبات محمود (جلد 37) — Page 90
خطبات محمود جلد نمبر 37 90 $1956 پس میرے نزدیک اخراجات بچانے کا صحیح طریق یہ ہے کہ مبلغین کو نو جوانی کی عمر میں باہر بھیجا جائے اور پھر ایسے وقت میں بھیجا جائے جبکہ ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہو اور ان کے صرف ایک یا دو بچے ہوں اور جب واپس آئیں تب بھی دو تین سے زیادہ ان کے بچے نہ ہوں۔اسی طرح جب تم اپنی بیویوں کو ساتھ لے جاؤ تو ایسا نہ ہو کہ تم سارا دن اپنی بیویوں کے پاس ہی بیٹھے رہو اور تبلیغ کے لیے باہر نہ نکلو۔یورپ کے سفر میں مجھے بعض یورپین مشنوں میں کام کرنے والے مبلغوں کے متعلق بتایا گیا کہ ان کے لیے گھر سے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔وہ سارا سارا دن بیویوں کے پاس بیٹھے رہتے ہیں۔جن مبلغین کی بیویاں اُن کے ساتھ گئی ہیں اُن میں سے میں نے صرف ایک مبلغ دیکھا ہے جو ہر وقت تبلیغ کے کام میں لگا رہتا ہے اور وہ چودھری عبداللطیف صاحب ہیں جو اس وقت ہیمبرگ مشن (جرمنی) میں کام کر رہے ہیں۔وہ نہایت نیک اور مخلص نوجوان ہیں اور ان کی بیوی ان کے ساتھ ہے۔لیکن پھر بھی دین کے متعلق ان کے اندر اس قدر فدائیت پائی جاتی ہے کہ وہ دینی کاموں کے وقت ان کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے اور ایک منٹ کے نوٹس پر باہر جانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔پچھلے دنوں جب ہالینڈ مشن میں خرابی پیدا ہوئی اور ہمیں دوسرا مبلغ بھیجنے کی ضرورت پیش آئی تو اُس وقت لر پاکستان سے مبلغ بھیجا جاتا تو اُس پر پانچ چھ ہزار روپے خرچ آ جاتا۔ہم نے چودھری عبداللطیف صاحب کو لکھا کہ تم فوراً ہالینڈ پہنچ جاؤ۔اس پر باوجود اس کے کہ اُن کے بیوی بچے کی ایک غیر ملک میں تھے وہ انہیں اکیلا چھوڑ کر فوراً ہالینڈ روانہ ہو گئے اور دوسرے ہی دن اُن کی ی تار آگئی کہ وہ ہالینڈ پہنچ گئے ہیں۔پھر وہ ایک ماہ تک وہاں رہے اور کام کرتے رہے اور اب اُن کا خط آیا ہے کہ چونکہ حافظ قدرت اللہ صاحب ہالینڈ پہنچ گئے ہیں اس لیے مجھے اجازت دی جائے کہ میں اپنے ملک میں واپس جا کر تبلیغ کا کام سنبھالوں۔گویا اب بھی انہوں نے یہ شکایت نہیں کی کہ اُن کے بیوی بچے جرمنی میں ہیں اس لیے انہیں وہاں جلد پہنچنا چاہیے۔پھر اس خط کے ساتھ ہی انہوں نے ایک جرمن ڈاکٹر کی بیعت کی اطلاع بھی بھیجی ہے۔کہتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔وہ ہالینڈ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خالی