خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 89

$1956 89 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ حضور! دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بچوں کی پیدائش کو روکے۔مجھے معلوم نہیں کہ تمہارا ان میں سے کس قسم کی عورت سے واسطہ پڑے گا۔بہر حال تم اپنی بیویوں کو سمجھاؤ کہ وہ بچے پیدا کرنے میں احتیاط سے کام لیں۔اسی طرح اپنے وکیلوں سے بھی باتیں کرتے رہو۔وہ بھی اکثر اوقات غلطی کا ارتکاب کر جاتے ہیں۔اگر مبلغ کو شادی کی ابتدا میں ہی باہر بھیج دیا جائے تو سلسلہ پر بچوں کا بوجھ نہیں پڑ سکتا۔لیکن یہ لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں اور جب اس کے ہاں پوری کرکٹ ٹیم جاتی ہے تو پھر اُسے باہر بھیجتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ اسے آٹھ دس سال پہلے بھیجتے تو نہ صرف وہ اس وقت تک پورا مبلغ بن جاتا بلکہ اخراجات کے لحاظ سے ہمیں بھی سہولت ہوتی۔کیونکہ اُس کے ہاں صرف ایک یا دولڑ کے ہوتے۔غرض اگر غور کر کے مبلغین کا پروگرام بنایا جائے اور پھر نو جوانی کی عمر میں ہی مبلغ کو باہر بھیج دیا جائے تو زیادہ سے زیادہ دو تین افراد کا خرچ سلسلہ پر پڑے گا اور پھر جب اسے واپس بلایا جائے گا تب بھی اُس کے ہاں دو یا تین بچے ہوں گے۔اسی طرح جتنا خرچ اس وقت صرف ایک مبلغ کے واپس بلانے یا بھیجنے پر ہوتا ہے اس سے پانچ مبلغین کے آنے جانے کا خرچ پورا ہو سکے گا اور سب مبلغین کو ایک وقت تک مرکز میں رہنے اور اس سے ہدایات لینے کا موقع مل جائے گا۔شروع شروع میں جو لوگ سلسلہ کی خدمت کے لیے آگے آئے وہ بھی بڑی عمر کے نہیں تھے بلکہ چھوٹی عمر کے ہی تھے۔مثلاً مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی جب قادیان آئے تو چھوٹی عمر کے ہی تھے۔پھر وہیں رہ کر انہوں نے ترقی کی اور سلسلہ میں خاص مقام حاصل کر لیا۔حضرت خلیفہ اول بھی جب قادیان آئے تو آپ کی عمر زیادہ نہیں تھی۔پھر مولوی محمد علی صاحب آئے، مولوی شیر علی صاحب آئے ، مفتی محمد صادق صاحب آئے ، ماسٹر عبدالرحمان صاحب جالندھری آئے (جن کی کتاب ہے میں مسلمان ہو گیا بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی آئے ، بھائی عبدالرحیم صاحب آئے یہ سب چھوٹی عمر کے تھے۔پھر آہستہ آہستہ انہیں بڑی پوزیشن حاصل ہو گئی۔اسی طرح درد صاحب بھی چھوٹی عمر میں ہی آئے تھے۔