خطبات محمود (جلد 36) — Page 65
خطبات محمود جلد نمبر 36 65 $1955 جب ہمارے قریب کے رہنے والوں کی یہ حالت ہے تو باہر والوں کی طرف ہمیں کتنی توجہ کی ضرورت ہے۔اور افسوس پیدا کرنے والی اس طرح کہ جنہیں دوسروں کا لیڈر ہونا چاہیے تھا اور ہر بات میں انہیں آگے نکلنا چاہیے تھا وہی پیچھے رہ گئے۔جو ایک افسوسناک امر ہے۔بہر حال یہ بات واضح ہے کہ ہمارا کام بہت وسیع ہے اور ہم نے ساری دنیا میں اسلام اور احمدیت کو پھیلانا ہے۔اور یہ کام تقاضا کرتا ہے کہ ہم تحریک جدید کی مضبوطی کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کریں اور بیرونی مبلغین کو اتنار و پی بھجوائیں کہ وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنی تبلیغی مہمات کو جاری رکھ سکیں۔بیرونی ممالک کے جو حالات مبلغین کی رپورٹوں کے ذریعہ ہمارے علم میں آتے رہتے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈونیشیا، ملایا، ایسٹ افریقہ ، ویسٹ افریقہ اور مصر وغیرہ ممالک میں بالخصوص ضرورت ہے کہ ہم اپنی تبلیغی مساعی کو پہلے سے زیادہ تیز کر دیں۔اور اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ ہمارے مشن مضبوط ہوں اور ان کے پاس اتنا روپیہ ہو کہ وہ بغیر کسی روک کے اپنی تبلیغ کو وسیع کرتے چلے جائیں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بعض بیرونی مشن بھی اپنا فرض صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے اور اُن پر ایک جمود کی سی کیفیت طاری ہے۔میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے تو فیق دے تو میں انہیں جھنجھوڑوں اور انہیں بیدار کرنے کی کوشش کروں۔بے شک بعض مشن ایسے بھی ہیں جنہوں نے اچھا کام کیا ہے۔مثلاً نائیجیریا کا مشن ہے۔اس نے نہایت عمدہ کام کیا ہے۔اسی طرح فری ٹاؤن کے مشن نے بھی اچھا کام کیا ہے۔لیکن بعض مشن سست ہیں اور انہوں نے اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو سمجھا ہی نہیں پھر ہمیں آئندہ کے لیے نئے مبلغوں کی بھی ضرورت ہے۔اگر نئے مبلغین نہیں آئیں گے تو ہم اپنے کام کو ترقی کس طرح دے سکیں گے۔پھر اگر مبلغ آبھی گئے لیکن روپیہ نہ آئے تو انہیں باہر بھیجنا مشکل ہو گا۔بہر حال جو مشن اس وقت تک قائم کئے جاچکے ہیں انہیں ایک حد تک بڑھانا ہمارے لئے ضروری ہے۔اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنے مبلغین کو لٹریچر مہیا کرنا چاہیے۔اسی طرح انہیں سفر خرچ اور جلسے وغیرہ منعقد کرنے کے لیے اخراجات مہیا کرنے چاہیں۔در حقیقت اب تک ہم اپنے مبلغین کو صرف کھانے پینے کے اخراجات ہی دیتے ہیں سفر خرچ نہیں دیتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مبلغین اپنے مشن ہاؤس میں ہی بیٹھے رہتے ہیں۔اتفاقاً