خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 27

$1955 27 خطبات محمود جلد نمبر 36 غرض انگریزی طب کو ایسے کاموں سے وابستہ کر دیا گیا ہے کہ اس کے سیکھنے کے لئے کالج میں داخل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن ہماری طب ایسی ہے کہ اگر پرائیوٹ طور پر مطالعہ کیا جائے تو ذہین اور سمجھدار آدمی اس میں انتہائی ترقی کر سکتا ہے۔ایک کمپونڈ ر اعلیٰ درجہ کا ڈاکٹر نہیں بن سکتا لیکن ایک معمولی طبیب ذاتی مطالعہ سے اعلیٰ درجہ کا طبیب بن سکتا ہے۔کیونکہ اس میں تدبیر اور فکر سے ترقی کی جاسکتی ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ہماری طب کی بنیاد کلیات پر ہے۔لیکن انگریزی۔طب کی بنیاد جزئیات پر ہے۔اس لئے اس میں فلسفہ کم ہوتا ہے اور آلات اور عملی تدابیر زیادہ ہوتی ہیں اس لئے اس میں درسی تعلیم کا دخل زیادہ ہے۔لیکن طب یونانی کی بنیا د فلسفہ پر ہے۔پس جو شخص سوچنے کا عادی ہوگا وہ طب میں بہت آگے نکل جائے گا۔میں نے کئی دفعہ سمجھایا ہے کہ مبلغین کو طب سکھا ؤ لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی ابھی تک دنیا میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں کوئی طبیب نہیں ملتا۔اگر ہمارے مبلغ طبیب بھی ہوں تو وہ اس قسم کے علاقوں میں بہت اچھا کام کر سکتے ہیں۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ طلباء اور دفتر کے عملہ انگریزی طب نے اس قسم کا تسلط کیا ہوا ہے کہ وہ ادھر جاتے ہی نہیں۔روزانہ تجربہ میں یہ بات آتی ہے کہ بعض جگہوں پر ڈاکٹر فیل ہو جاتا ہے لیکن یونانی طبیب کامیاب ہو جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے حصے جن سے جزئیات کا زیادہ تعلق ہوتا ہے ان میں انگریزی طب زیادہ کا میاب ہوتی ہے۔کیونکہ اس کی بنیاد جزئیات پر ہے۔لیکن جب یہ دونوں علم متوازی صورت میں ہیں تو کیا تی وجہ ہے کہ طب سے فائدہ نہ اٹھایا جائے۔پھر ہومیو پیتھک ہے ، بایو کیمک ہے۔یہ اور بھی آسان ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض ممالک میں اس قسم کا قانون بنا دیا گیا ہے کہ جس شخص کے پاس با قاعدہ سند نہ ہو یا اُسے دس سال کا تجربہ نہ ہو، وہ طبابت کا پیشہ اختیار نہیں کر سکتا۔لیکن اس وقت کی بھی بعض ممالک ایسے ہیں جن میں پاکستان جتنے ڈاکٹر بھی نہیں پائے جاتے۔ایک دفعہ ایک ملک سے ایک دوست نے لکھا کہ مجھے ایک ڈاکٹر بھجوا دیں۔میں اسے اپنے پاس سے روپیہ خرچ کر کے دکان کھول دوں گا وہ یہاں اپنی پریکٹس کرتا رہے۔میں نے اسے لکھا کہ کوئی ڈاکٹر اس کام کے لئے تیار نہیں۔تو اس نے کہا میری مراد سند یافتہ ڈاکٹر سے نہیں بلکہ کمپونڈر سے ہے۔مجھے کوئی کمپونڈ ر ہی بھجوا دیں میں اپنے پاس سے خرچ کر کے اس کے لئے دکان کا انتظام کر دوں گا۔