خطبات محمود (جلد 36) — Page 173
$1955 173 خطبات محمود جلد نمبر 36 حکومت سے پندرہ سو یا دو ہزار لینے والوں کے لیے ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے عطیہ کی بد استعمالی نہیں تو اور کیا ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ آپ کی اولاد آئندہ ہزار سال تک اپنی اولاد در اولاد کو دین کی خدمت کے لیے وقف کرتی چلی جاتی اور دنیا کمانے کی طرف کبھی توجہ نہ کرتی۔اگر باقی لوگوں کو لاکھ لاکھ روپیہ ماہوار بھی مل رہا ہوتا تو وہ اُس کی طرف منہ نہ کرتے۔اور دین کی خدمت کرتے ہوئے اگر انہیں پچاس روپیہ ماہوار بھی ملتا تو اُسے خوشی سے قبول کر لیتے۔مگر یا د رکھو یہ ضروری نہیں کہ جسمانی اولاد ہی وفا دار ہو بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ روحانی اولا دوفا دار ثابت ہوتی ہے اور جسمانی اولا د بعض دفعہ بے وفائی کر جاتی ہے۔اس لیے اگر آپ لوگ دیکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی اولاد داغدار ثابت ہورہی ہے تو آپ یہ نہ کہیں کہ آپ کی جسمانی اولا د جب اچھا نمونہ نہیں دکھا رہی تو ہم کیوں دکھا ئیں۔یا د رکھیں آپ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی اولاد ہی ہیں۔وہ جسمانی اولاد ہیں اور آپ روحانی اولاد ہیں۔اگر آپ لوگ انہیں دین سے لا پرواہی کرتے دیکھیں تو بائیں طرف تھوک کر اور یہ سمجھ کر کہ وہ شیطان کے قبضہ میں آگئے ہیں دین کی خدمت میں مشغول ہو جائیں۔ساری دنیا ابھی اسلام سے بیگانہ ہے اور اڑھائی ارب کی آبادی کو ہم نے اسلام کی طرف لانا ہے۔پس اڑھائی ارب کی آبادی کو اسلام کی طرف لانے کی تیاری کریں اور شروع دن سے ہی اپنا یہ مقصد بنالیں اور اپنی اولاد کو بھی تاکید کریں کہ ان کا کام ساری دنیا کو کلمہ پڑھانا ہے۔جب تم لوگ ساری دنیا کو کلمہ پڑھا لو گے تو تمہاری دنیا اور عاقبت دونوں سنور جائیں گی۔ایک پاگل سے پاگل انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب ساری دنیا کلمہ پڑھ لے گی تو انگریز کیا، دنیا کی ساری قومیں تمہاری غلامی کریں گی۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر امریکہ کے سب لوگ مسلمان ہو جا ئیں تو آج ہمارا جو مبلغ وہاں کے مزدوروں سے بھی کم گزارہ لے کر کام کر رہا ہے اسی حالت میں رہے گا ؟ اور کیا وہ لوگ اپنی دولتیں اس کی طرف نہیں پھینکیں گے؟ پس بے شک آپ لوگوں کو دنیا بھی ملے گی لیکن میں اس پر زور اس لیے نہیں دیتا کہ تا تمہارا نظریہ دنیوی نہ ہو جائے ورنہ یہ حقیقت ہے کہ آج جو دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرے گا اور دنیا کی پروا نہیں کرے گا ایک وقت آ۔گا کہ دنیا اُس کی طرف دوڑتی ہوئی آئے گی۔لیکن اس وقت تم صرف دین کو سامنے رکھو۔اور