خطبات محمود (جلد 36) — Page 174
$1955 174 خطبات محمود جلد نمبر 36 ہزار دو ہزار یا دس ہزار کے چکر میں نہ پڑو۔صرف اس بات کو اپنے سامنے رکھو کہ چاہے فاقے آئیں ہم رسول کریم ﷺ کا کلمہ ساری دنیا کو پڑھا کر رہیں گے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک میراشن آئی۔اُس کا لڑکا عیسائی ہو گیا تھا اور وہ سل کا مریض بھی تھا۔اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے درخواست کی کہ میرا یہ اکلوتا لڑ کا عیسائی ہوگیا ہے اور ساتھ ہی سل کی بیماری میں مبتلا ہے۔آپ اسے تبلیغ بھی کریں تا یہ دوبارہ اسلام قبول کرے اور علاج بھی کریں۔آپ نے حضرت خلیفتہ اسی الاول کو اس کے علاج کے لیے ہدایت فرمائی اور خود اسے تبلیغ کرتے رہے۔لیکن وہ اس قدر کٹر عیسائی تھا کہ آپ جتنی تبلیغ کرتے وہ اُتنا ہی عیسائیت میں پکا ہوتا۔ایک رات جبکہ اُس کی حالت زیادہ خراب تھی وہ آدھی رات کو بھا گا اور بٹالہ کی طرف چل پڑا۔وہاں عیسائیوں کا مشن تھا۔اُس کی ماں کو پتا لگ گیا۔وہ رات کو گیارہ میل کے سفر پر چل پڑی اور قادیان سے 8, 9 میل کے فاصلہ پر دوانی وال کے تکیہ 2 کے پاس اُسے جالیا۔مجھے یاد ہے جب وہ قادیان واپس آئی تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے پاؤں پر روتی ہوئی گر گئی اور کہنے لگی میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ ایک دفعہ اسے کلمہ پڑھا دیں۔پھر بے شک یہ مرجائے مجھے اس کی پروا نہیں۔لیکن میں یہ نہیں چاہتی کہ یہ عیسائی ہونے کی حالت میں مرے۔دیکھو! اس میراثن میں کتنا ایمان تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی اور جسمانی اولاد میں کم از کم اُس میراثن جتنا ایمان تو ضرور ہونا چاہیے۔اُس میراشن کا بیٹا عیسائی ہو گیا تھا۔مگر وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ عیسائی ہونے کی حالت میں مرے۔اُس کی خواہش تھی کہ وہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے پھر بے شک مرجائے۔تم لوگ تو مسلمان گھروں میں پیدا ہوئے ہو۔تمہارے لئے تو اور بھی ضروری ہے کہ تم ایک دفعہ دوسروں کو کلمہ پڑھا لو پھر بے شک مرجاؤ۔تم وقف در وقف کی تحریک کرتے چلے جاؤ اور پھر ہر واقف یہ سوچے کہ آگے اُس کی اولاد میں خدمت دین کے لیے کتنا جوش ہے۔وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں اُن میں سے کئی ہیں جن کی اولاد نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے وقف نہیں کیں۔صرف میری اولا د نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے وقف کی ہیں۔خدا کرے کہ ان کا دین کی خدمت