خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 61

$1955 61 خطبات محمود جلد نمبر 36 ہی کرایہ دے کر بھیجا تھا۔پھر دو چار سال جب تک وہاں جماعت قائم نہیں ہوئی تھی سارا خرچ پاکستان کی جماعت نے دیا تھا۔اب بھی اکثر جگہوں پر پاکستان ہی کی جماعت خرچ کرتی ہے۔مگر بیرونی جماعتیں ایک ایک پیسہ پر بحث شروع کر دیتی ہیں۔اور کہنے لگ جاتی ہیں کہ ہمارا چندہ باہر کیوں جائے۔وہ سمجھتے ہیں کہ تبلیغ کا ذمہ دار صرف پاکستان ہے۔باقی لوگوں پر تبلیغ کی ذمہ داری نہیں۔امریکہ کی جماعت چاہتی ہے کہ امریکہ کا چندہ امریکہ میں ہی خرچ ہو۔جاپان چاہتا ہے کہ اس کا چندہ جاپان میں ہی خرچ ہو۔انڈونیشیا چاہتا ہے کہ اُس کا چندہ انڈونیشیا میں ہی خرچ ہو۔ملا یا چاہتا ہے کہ اُس کا چندہ ملایا میں ہی خرچ ہو۔عرب چاہتا ہے کہ اُس کا چندہ عرب میں ہی خرچ ہو۔افریقہ چاہتا ہے کہ اُس کا چندہ افریقہ میں ہی خرچ ہو۔باقی دنیا میں تبلیغ پر جو خرچ ہو وہ پاکستان برداشت کرے۔لیکن یہ احمقانہ خیال ہے۔پس یہ مرض باہر کی جماعتوں میں پائی جاتی ہے۔اور جب یہ مرض باہر کی جماعتوں میں اس وقت بھی پائی جاتی ہے جب پاکستان کی جماعت نے اکثر حصہ بوجھ کا اٹھایا ہوا ہے تو جب مرکز میں ہی خرابی پیدا ہو جائے تو ہم انہیں کیا کہیں گے۔جب ذمہ دار لوگ معمولی عقل کی بات بھی نہ کریں تو دوسروں سے کیا شکوہ ہے۔وہ امریکہ ، جرمنی ، ہالینڈ اور دوسرے ممالک کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی اصلاح نہیں کر سکتے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں۔" مردہ باد اے مرگ عیسی آپ ہی بیمار ہے یعنی اے موت ! تجھے مبارک ہو کہ عیسی جو مُردے زندہ کیا کرتا تھا وہ آپ ہی بیمار ہے۔پس مرکز کے رہنے والوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔انہیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور پھر اصلاح کرتے رہنا چاہیے۔انہیں اپنی عقل تنظیم اور قربانی سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ محض اتفاقی طور پر ہی لیڈر نہیں بنے۔بلکہ خدا تعالیٰ نے انہیں لیڈر بنایا ہے۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو اس ملک میں پیدا کیا تھا تو یہ دیکھ کر کیا تھا کہ ہم لوگوں میں قابلیت پائی جاتی ہے۔اگر ہم اپنی قابلیت کو ظاہر نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ جھوٹا نہیں ہم خود جھوٹے ہیں۔اگر ہم اپنی قابلیت کو ظاہر نہیں کرتے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ہم اپنی طاقت کو ضائع کر رہے ہیں۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا۔اُس نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! میرے بھائی کو دست آرہے ہیں۔آپ نے فرمایا اُسے شہد پلاؤ۔چنانچہ وہ واپس گھر گیا اور اُس نے اپنے بھائی کو شہد پلایا۔لیکن دست اور 66