خطبات محمود (جلد 36) — Page 49
$1955 49 خطبات محمود جلد نمبر 36 جھوٹ تھی اُس نے نہ صرف اُسے یہ کہا کہ ہمارا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مجھے بھی یہ بات لکھ دی۔پس میں ایک طرف جماعت کے دوستوں کو ہوشیار کرتا ہوں کہ وہ ان دنوں زیادہ بیدار مغزی سے کام لیں۔اور اُن باتوں سے بھی پرہیز کریں جن میں ذرا بھی انہیں قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہو۔دوسرے ان دنوں استغفار اور دعا پر زور دو۔تم نہیں جانتے کہ تمہارے خلاف کیا کچھ ہو رہا ہے۔لیکن اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو تو وہ دعا اور استغفار کے نتیجہ میں اسے بدل دے گا۔مولا نا روم اپنی مثنوی میں لکھتے ہیں کہ ایک سپیرے نے ایک نئی قسم کا سانپ دیکھا تو اس نے اُسے پکڑ لیا اور ایک گھڑے میں بند کر دیا۔اُس نے خیال کیا کہ یہ ایک نئی قسم کا سانپ ہے۔میں اسے لوگوں کو دکھاؤں گا تو مجھے زیادہ آمد ہوگی۔رات کو وہ اٹھا اور اُس نے شوق سے گھڑے کو دیکھا تو سانپ اُس میں موجود نہیں تھا ڈھکنا ہلکا تھا جس کی وجہ سے سانپ باہر نکل گیا۔اُس نے دعا مانگنی شروع کر دی کہ اے اللہ ! میرا خیال تھا کہ یہ نئی قسم کا سانپ میرے ہاتھ آ گیا ہے۔میں اس کے ذریعہ آمد پیدا کروں گا لیکن وہ تو باہر نکل گیا ہے۔اے خدا ! تو ایسا کر کہ سانپ واپس آ جائے۔مولا نا روم لکھتے ہیں کہ وہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک دعائیں مانگتا رہا۔اتنے میں صبح کی اذان ہوگئی۔وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد گھڑا آکر دیکھتا تھا کہ اُس کی دعاؤں کے نتیجہ میں سانپ آگیا ہے یا نہیں۔لیکن گھڑا خالی ہوتا۔سپیروں میں رواج ہے کہ جب کسی کو کوئی نیا سانپ کاٹے تو وہ سب سپیروں کو بلا کر دکھاتے ہیں تا کہ وہ اُس سے ہوشیار رہیں۔وہ دعا مانگ رہا تھا کہ دروازہ پر کسی نے دستک دی۔وہ باہر گیا تو دستک دینے والے نے اُسے بتایا کہ ایک شخص کو کسی نئی قسم کے سانپ نے کاٹا ہے اور وہ مر گیا ہے۔ہم نے وہ سانپ پکڑا ہوا ہے تم بھی آکر اُسے دیکھ لو۔چنانچہ وہ اُس کے ساتھ چلا گیا اور دیکھا کہ اُسی کے سانپ نے اُس آدمی کو کاٹا تھا۔وہ یہ دیکھتے ہی کہنے لگا میں اپنی بیوقوفی سے یہ سمجھ رہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے میری دعائیں نہیں سنیں۔حالانکہ اُس نے میری دعا کوسن لیا تھا۔اگر وہ سانپ واپس آجاتا تو مجھے کاٹتا اور میں مرجاتا۔پس میری دعاؤں کی قبولیت اسی میں تھی کہ یہ سانپ واپس نہ آتا۔تو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ تمہارے متعلق کون جھوٹ بولتا ہے اور کس کے پاس جھوٹ بولتا