خطبات محمود (جلد 36) — Page 47
خطبات محمود جلد نمبر 36 47 $1955 بہر حال چونکہ دشمن جماعت کے متعلق جھوٹی رپورٹیں کرنے سے بھی پر ہیز نہیں کرتا اس لئے میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ احتیاط سے کام لیں۔جماعت احمدیہ کی تو تعلیم ہی یہ ہے کہ قانون شکنی نہ کی جائے۔پس قانون تم سے جو مطالبہ کرتا ہے اُسے تم پورا کرو۔بلکہ قانون کی بعید تشریح کے ماتحت بھی افسرانِ علاقہ امن کے قیام کے سلسلہ میں اگر تم سے کوئی مطالبہ کریں تو تم اُسے بھی پورا کرو۔احمدیت اسلام کو زندہ کرنے کے لئے قائم ہوئی ہے اور اسلام امن کو قائم رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔پس تمہیں بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔اگر کوئی شخص تمہارے متعلق خفیہ جھوٹ بولتا ہے اور مخفی رپورٹیں جو سراسر افتراء ہوتی ہیں حکام کو دیتا ہے تو اُسے روکنا تمہارے اختیار میں نہیں۔لیکن اگر اُسے تمہارے کسی فعل سے بھی مددمل جائے تو وہ یقیناً اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائے گا اور اُس کا جھوٹ زیادہ تقویت اختیار کرلے گا۔جب تک اُسے سچائی کی تھوڑی بہت مدد نہیں ملتی خواہ لوگ اس جھوٹ سے کتنے ہی متاثر ہوں ہم یہی کہیں گے کہ دشمن کی اکثریت ہماری دلیل پر غالب آ رہی ہے۔جب یہاں ہندو زیادہ تھے تو ملک میں کوئی بات اُن کے خلاف سنی نہیں جاتی تھی۔جب وہ کہہ دیتے کہ یہ بات یوں نہیں تو کوئی افسران کے خلاف کوئی بات نہیں سنتا تھا۔پس جہاں کسی قوم کی کثرت ہو وہاں دلیل کی قوت جاتی رہتی ہے اور اس کی بجائے کثرت کو قوت حاصل ہو جاتی ہے۔اور تم جانتے ہو کہ تمہارا دشمن زیادہ تعداد میں ہے۔اگر تم ادنی سی غلطی بھی کرو گے تو لازماً اس کا نتیجہ تمہارے حق میں بُرا نکلے گا۔کیونکہ کوئی افسر تمہاری دلیل نہیں سنے گا۔مثلاً یہ ایک چھوٹی سی بات ہے کہ تمہارے پاس رائفل کا لائسنس ہو اور تم شکار کے لئے جاؤ۔تمہارا کوئی دوست تمہارے پاس آ جائے اور کہے کہ لاؤ میں بھی رائفل چلا کر دیکھوں۔اور تم اُس سے اپنے سامنے رائفل چلوا کر دیکھو تو ممکن ہے کہ تمہارا ایسا کرنا خالص قانونی نقطہ نظر سے ناجائز ہو۔مجھے اس کا علم نہیں لیکن ساری دنیا ایسا کر رہی ہے۔مثلاً مجھے یاد ہے کہ مجھے جب پہلی دفعہ رائفل چلانے کا تجربہ ہوا تو وہ اسی طرح ہوا کہ ایک انسپکٹر صاحب پولیس کے ایک احمدی دوست سے دوستانہ تعلقات تھے انسپکٹر صاحب شکار کے شوقین تھے۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ آپ نے کبھی رائفل سے شکار نہیں کیا۔آپ میرے ساتھ آئیں۔چنانچہ وہ شیخو پورہ کے ضلع میں آئے میں بھی ساتھ چلا گیا۔وہاں جا کر