خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 277

$1955 277 خطبات محمود جلد نمبر 36 بیوی کے بھائی جلد ساز تھے۔جن کے پاس فرمہ شکنی کے لیے جب کوئی کتاب آتی تو وہ اُس سے فرمے منگوا لیتی تھیں اور وہ خود اور دوسری بیوی فرمے تو ڑ تو ڑ کر کچھ رقم پیدا کر لیتیں جس سے اُن کا گزارہ چلتا۔۔دیکھو ایک شخص ایم اے ہے اور سب حجی کے لیے اُسے آفر (OFFER) آچکی ہے، وہ تبلیغ کے لیے ملک سے باہر جاتا ہے۔سلسلہ کو اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اُس کے بیوی بچوں کو مناسب گزارہ دے سکے۔اُس کی بیویوں کو اپنے گزارہ کے لیے فرمے توڑنے پڑتے ہیں۔لیکن پھر بھی اُس نے نہایت ثابت قدمی سے سلسلہ کی خدمت میں چالیس سال کا عرصہ گزار دیا۔چاہیے تو یہ تھا کہ اُن کی وفات کے بعد جماعت کے نوجوان آگے آجاتے اور کہتے ہم اُن کا کام سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے اور اس کا کام سنبھالنے کے لیے نوجوان آگے آتے رہیں گے لیکن اس وقت نوجوانوں نے ایسا نمونہ نہیں دکھایا جس سے یہ سمجھا جائے کہ جماعت میں قومی زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں۔سلسلہ کے کام تو خدا تعالیٰ نے کرنے ہی ہیں اور وہ اپنے فضل سے کرتا رہے گا۔لیکن اگر وہ کام ہمارے ہاتھ سے ہوں تو ہمیں ثواب ملے گا۔اگر درد صاحب کی وفات کے بعد فوری طور پر نو جوان اپنے آپ کو پیش کر دیتے اور کہتے کہ ہم اُن کا کام سنبھالنے کے لیے تیار ہیں تو دوسرے لوگوں کو یہ بات نظر آتی کہ یہ جماعت زندہ ہے اس لیے اسے کوئی نہیں مٹا سکتا۔یہ آدمیوں کے ساتھ زندہ نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ زندہ ہے۔اور چونکہ ایمان کو مرنے سے بچایا جا سکتا ہے اس لیے یہ قوم ہمیشہ زندہ رہے گی۔اگر نو جوان اس طرح آگے آتے تو دنیا کے سامنے یہ نظارہ آجاتا کہ یہ قوم ایمان کے ساتھ زندہ ہے روپیہ اور آدمیوں کے ساتھ نہیں۔روپیہ چرایا جا سکتا ہے ایمان چوری نہیں کیا جاسکتا۔آدمی مر سکتے ہیں لیکن ایمان نہیں مرتا بلکہ سچا ایمان تو بڑھتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم مومنوں کے ایمان کو بڑھاتے ہیں 5۔پس جس قوم اور جس جماعت کی بنیا د ایمان پر ہوگی وہ کبھی نہیں مرے گی۔بلکہ ہمیشہ آگے بڑھے گی۔اُس کے افراد بے شک مرتے جائیں گے لیکن وہ جماعت ترقی کرتی چلی جائے گی۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں مولوی عبدالکریم صاحب