خطبات محمود (جلد 36) — Page 276
خطبات محمود جلد نمبر 36 276 $1955 ہماری جماعت کے نوجوانوں کو بھی چاہیے تھا کہ اگر جماعت کا ایک واقف زندگی چالیس سال خدمت کرنے کے بعد مرجاتا ہے تو دس ہیں اور نو جوان اُس کی جگہ کام کرنے کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیتے۔ایک حد تک جماعت کے نوجوان سلسلہ کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں پیش تو کر رہے ہیں۔لیکن مجھے اس امر کا افسوس ہے کہ پچھلے دنوں جب میں نے وقف کی تحریک کی تو مختلف کالجوں کے نوجوانوں نے سلسلہ کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں پیش کیں لیکن اس کام میں ہمارا تعلیم الاسلام کالج سب سے پیچھے رہا۔ہمیں تو اس بات کی امید تھی کہ سلسلہ کے ایک مرنے والے خادم کی جگہ لینے کے لیے اس کالج کے دس ہیں نو جوان اپنی زندگیاں پیش کریں گے۔لیکن تعجب ہے کہ باوجود اس کے کہ اس کالج کے پرنسپل واقف زندگی ہیں، اس کے بہت سے پروفیسر واقف زندگی ہیں اس کالج کے کسی لڑکے نے اپنی زندگی وقف نہیں کی۔صرف ایک نوجوان نے جو میرا پوتا ہے زندگی وقف کی ہے۔لیکن وہ ابھی بہت چھوٹی کلاس میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ لوگ اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کوتاہی کر رہے ہیں۔اگر اس کالج کے سٹوڈنٹ درد صاحب کی وفات کے بعد اپنے آپ کو پیش کرتے اور کہتے کہ وہ بھی ہماری طرح کے ایک انسان تھے اگر انہوں نے باوجود اس کے کہ وہ ایم اے تھے اور نہایت تنگی سے گزارہ کرتے تھے چالیس سال تک سلسلہ کی خدمت کی ہے تو ہم کیوں ایسا نہیں کر سکتے تو جماعت کی ہمت کس قدر بلند ہو جاتی۔مجھے یاد ہے جب ہم نے درد صاحب کو ولایت بھیجا ہے ان کی تنخواہ سو روپے ماہوار تھی۔چندہ اور دوسری کٹوتیوں کے بعد انہیں ساٹھ روپے ماہوار ملتے تھے جس میں سے بڑا حصہ وہ اپنی والدہ کو بھیج دیتے تھے۔ان کی دو بیویاں تھیں اور ان میں سے ہر ایک کے چار چار پانچ پانچ بچے تھے۔وہ ہمارے مکان کے ہی ایک حصہ میں جو کچا تھا اور جس میں رہنا آج کل کے کلرک بھی پسند نہیں کرتے رہتی تھیں۔مجھے یاد ہے کہ مجھے یہ معلوم کر کے سخت صدمہ ہوا کہ ان کی بیویوں کے حصہ میں چار چار پانچ پانچ بچوں سمیت صرف چودہ چودہ روپے ماہوار آتے تھے۔اب تو چودہ روپے وظیفہ پر بھی لڑکے شور مچا دیتے ہیں کہ یہ رقم بہت کم ہے۔لیکن اُن دنوں ان کی بیویوں کے حصہ میں بچوں سمیت صرف چودہ چودہ روپے آتے تھے۔ان کی ایک