خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 271

$1955 271 خطبات محمود جلد نمبر 36 جانے کی تحریک کر سکوں لیکن ربوہ کے رہنے والے جن کے پاس پاسپورٹ ہوں اب بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔چنانچہ مرزا عزیز احمد صاحب نے لکھا ہے کہ ربوہ کے بہت سے افراد ایسے ہیں جن کے پاس پاسپورٹ ہیں اور وہ قادیان جاسکتے ہیں لیکن وہ جانے پر آمادہ نہیں۔کیونکہ وہ سال کے دوران میں قادیان ہو آئے ہیں۔حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے قادیان سے ہو آنا کوئی دلیل نہیں۔سوال تو یہ ہے کہ کیا انہیں ربوہ کا جلسہ سالانہ دیکھنے کا کبھی موقع نہیں ملا ؟ یا وہ سلسلہ کے ایسے اہم کاموں پر مقرر ہیں کہ ان کو چھوڑ کر جانے سے یہاں کا جلسہ خراب ہو جاتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو ان کا فعل مستحسن ہے اور قابلِ مذمت نہیں بلکہ قابل تعریف ہے۔لیکن اگر ایسا نہیں تو محض اس لیے کہ وہ سال کے دوران میں قادیان ہو آئے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کومل آئے ہیں ان کا اس موقع پر اسے قادیان نہ جانے کا بہانہ بنالینا درست نہیں۔رشتہ داروں کو ملنا ہی ان کی خواہش نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں جماعت کی عزت اور وقار کے قائم رکھنے کے لیے بھی قادیان جانا چاہیے۔اگر قادیان جانے والوں کی تعداد ہر سال کم ہوتی رہی تو اس سے جماعت کی عزت اور وقار کو یقیناً صدمہ پہنچے گا۔پس گو اس وقت میری تحریک سے صرف یہاں کے لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن میں آئندہ کے لیے نصیحت کرتا ہوں کہ وقت سے پہلے افسروں کو اپنے کام کے لیے ہوشیار ہو جانا چاہیے۔دس تاریخ کو جو کام ہونا ہے اُس کی 9 تاریخ کو اطلاع دینے میں کوئی بھی معقولیت نہیں۔اگر مختلف جماعتوں میں پہلے سے تحریک کی جاتی اور مختلف افراد کو جو مبلغ یا کسی اور حیثیت سے جماعتوں میں پھرتے رہتے ہیں اِس کام میں امداد کی تحریک کی جاتی تو لاکھوں کی جماعت میں سے قادیان جانے کے لیے دو تین سو افراد کا تیار ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔پس آئندہ کے لیے اس غلطی کا ازالہ ہونا چاہیے اور شروع سال سے ہی اس کے لیے کوشش شروع کر دینی چاہیے۔قوموں کی زندگی کا صرف ایک سال نہیں ہوا کرتا بلکہ قوموں کی زندگی کے سینکڑوں اور ہزاروں سال ہوتے ہیں۔اس لیے ابھی سے اگلے سال کے قافلہ کے لیے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔اور ابھی سے لوگوں کے اندر ایسا جوش پیدا کرنا چاہیے کہ اگلے سال قافلہ میں جانے