خطبات محمود (جلد 36) — Page 272
$1955 272 خطبات محمود جلد نمبر 36 والے افراد کا فیصلہ کرنے کے لیے ہمیں قرعے ڈالنے پڑیں۔اگر ایک سو آدمی قادیان جاتا ہو تو چارسو افراد کی طرف سے درخواستیں آئی ہوئی ہوں۔اس سال کچھ نقص اس وجہ سے بھی ہوا ہے کہ پہلے گورنمنٹ ہمیں اکٹھے پاسپورٹ دیا کرتی تھی اور اس سے لوگ فائدہ اٹھالیا کرتے تھے الگ الگ پاسپورٹ بہت کم ملتے تھے۔اب پاسپورٹ ملنے میں آسانی ہو گئی ہے اس لیے لوگ دورانِ سال میں کثرت سے قادیان جاتے رہتے ہیں۔مگرا کیلے جانا اور جلسہ سالانہ کے موقع پر جانا دونوں میں فرق ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر جانے سے صرف قادیان کی زیارت ہی نہیں ہوتی بلکہ احمدیت کا وقار بھی بڑھتا ہے اور یہ دونوں الگ الگ اغراض ہیں۔جیسے عمرہ اور حج دونوں کی الگ الگ اغراض ہیں۔عمرہ میں بھی انسان خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے اور حج کے موقع پر بھی وہ خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے۔لیکن حج کی قیمت جو اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے وہ عمرہ کی نہیں رکھی۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ عمرہ کرنے کے لیے لوگ الگ الگ جاتے ہیں اور حج کے لیے ساری دنیا کے لوگ اکٹھے ہو کر جاتے ہیں۔اس لیے حج کے موقع پر اسلام کا وقار بڑھتا ہے لیکن عمرہ میں محض خانہ کعبہ کی زیارت اور برکت ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے حج کو مقدم رکھا ہے۔پس جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان جانے سے جماعت کا وقار بڑھتا ہے۔ہجوم کو دیکھنے سے لوگوں کے دلوں پر اثر پڑتا ہے۔اگر وہاں ایک ایک احمدی پھر رہا ہو تو اُس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔اس لیے کہ ہندوستان میں مسلمان تو پائے ہی جاتے ہیں۔اس لیے وہاں کے ہندوؤں اور سکھوں کے لیے وہ کوئی عجیب چیز نہیں ہوں گے۔وہ سمجھیں گے کہ ایک مسلمان پھر رہا ہے۔لیکن جلسہ سالانہ کے موقع پر سینکڑوں احمدیوں کا قادیان جانا اور سات سات آٹھ آٹھ لاریوں کا اکٹھا وہاں پر پہنچنا اُنہیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ابھی مسلمانوں میں دینی روح زندہ ہے اور احمد یوں کو اپنے مقدس مقام سے محبت ہے۔پھر یہ بات اُن لوگوں کے دلوں میں بھی تعلق کا احساس پیدا کر دیتی ہے۔کیونکہ وہاں کے رہنے والے چاہے وہ ہندو یا سکھ ہوں اب تک اُن کے دلوں میں یہ یقین پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق قادیان ضرور ترقی کرے گا1۔ہمیں اُن کے اس یقین کو گھٹا نا نہیں چاہیے بلکہ بڑھانا چاہیے۔1۔