خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 255

خطبات محمود جلد نمبر 36 255 $1955 میں ڈال دیتے ہیں۔اور اسے وہ دوبارہ صاف کر کے گھر کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور گھر والے اسے اٹھا کر اندر لے جاتے ہیں۔میں نے اُس وقت مرزا منور احمد کو اس طرف توجہ دلائی کہ تم ربوہ کی میونسپل کمیٹی کے سیکرٹری ہو تمہیں بھی وہاں ایسا ہی انتظام کرنا چاہیے۔اور اس پر کوئی خرچ بھی نہیں آتا۔آسودہ حال لوگ اس قسم کے ڈرم خرید کر گھروں میں رکھ سکتے ہیں اور ایسے لوگ جو فی الواقع مدد کے محتاج ہوں اُن کو سلسلہ کی طرف سے ڈرم خرید کر دیئے جا سکتے ہیں اس سے کسی حد تک مالی بوجھ تو پڑے گا مگر اس طرح سارے شہر سے گندمٹ جاتا ہے۔گول ڈرم جو میں نے وہاں دیکھے حجم میں فینائل کے ڈرم کے برابر یا اس سے کچھ بڑے ایلومینیم کے بنے ہوئے تھے ، منہ اُن کا گھلا تھا اور اُن پر ایک گنڈ ا لگا ہوا تھا تا کہ انہیں اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھا جا سکے۔اس قسم کا ایک ڈرم ہر گھر میں پڑا رہتا ہے اور گھر والے تمام گندر ڈی چیزیں اور پھلوں اور ترکاری وغیرہ کے چھلکے اُس کے اندر ڈالتے رہتے ہیں۔اُن کے ہاں پاخانہ تو ہوتا نہیں۔ہر گھر میں فلش سسٹم ہے۔یعنی کموڈ میں پاخانہ کیا اور اوپر سے زنجیر دبادی اور پانی اُسے بہا کر لے گیا۔لیکن دوسرا گند اور کوڑا کرکٹ تو ہوتا ہے۔اُسے اس ڈرم میں ڈال دیا جاتا ہے اور مقررہ دن پر گھر والے اُسے باہر رکھ دیتے ہیں۔میونسپل کمیٹی کا ٹرک آتا ہے، ملازم اُسے اٹھا کر ٹرک میں خالی کر دیتے ہیں اور اُسے دوبارہ صاف کر کے گھر کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔گھر والے اُسے اٹھا کر اندر لے جاتے ہیں اس طرح باہر گند پھینکنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔میں نے مرزا منور احمد سے کہا تھا کہ تم بھی ربوہ میں اس قسم کا انتظام کرو ہم بھی تمہاری مدد کرنے کی کوشش کریں گے اور میں جماعت کو بھی اس طرف توجہ دلاؤں گا۔آج چونکہ جمعہ کا دن ہے اور مرد و عورت سب جمعہ کے لیے مسجد میں آئے ہوئے ہیں اس لیے میں سب کو توجہ دلاتا ہوں کہ شہر کی گندگی کا اثر باہر والوں پر بہت بُرا پڑتا ہے۔یورپ کے شہروں میں صفائی کا ایسا اچھا انتظام ہے کہ تم سارا شہر پھر جاؤ کہیں گند پڑا ہوا نظر نہیں آئے گا۔زیورک چار پانچ لاکھ کی آبادی کا شہر ہے اور کئی میلوں میں پھیلا ہوا ہے۔لیکن اس شہر کے اندر تم موٹروں پر میلوں میں پھر جاؤ تمہیں کہیں کا غذ کا پُرزہ تک بھی پڑا ہوا نظر نہیں آئے گا۔وہاں کوئی شخص رڈی کاغذ کے پرزے باہر پھینکنے کی جرات نہیں کرتا۔جب کسی نے کوئی