خطبات محمود (جلد 36) — Page 240
خطبات محمود جلد نمبر 36۔240 $1955 ہماری جماعت بھی ایک نہایت قلیل جماعت ہے اور کام اس کے سامنے بڑے ہیں۔ان کا ابتدائی مرکز ہندوستان میں ہے جہاں جماعت بہت تھوڑی ہے۔اللہ تعالیٰ کے بڑے وعدے ہیں مگر ان وعدوں کو قریب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دعاؤں میں لگ جائیں۔اللہ تعالیٰ چاہے تو وہاں کے مسلمانوں کے دل بھی احمدیت کی طرف مائل کر سکتا ہے۔اور وہاں کے سکھوں اور ہندوؤں کے دل بھی احمدیت کی طرف مائل کر سکتا ہے۔پس جو کام ہم خود نہیں کر سکتے ( ہمارے لیے تو وہاں جانا ہی مشکل ہے ) وہ ہم دعاؤں کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہیں کہ الہی ! تیرے وعدے تو سچے ہیں۔لیکن اگر تیرے وعدے اُس وقت پورے ہوئے جب ان مسکین لوگوں کے جو وہاں بیٹھے ہوئے ہیں دل ٹوٹ گئے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا۔تو جلدی اپنے وعدے پورے کر اور جلدی ان لوگوں کے دلوں کو مضبوط کرنے کی تجویز کر۔میں نے پچھلے جمعہ میں کہا تھا کہ مجھے بھی رویا میں یہی پتا لگا ہے کہ میری مرض بھی دعا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔سو دوست دعا کریں۔اسی طرح دنیا کے باقی ممالک میں ایک ایک دو دو کر کے تو لوگ مسلمان ہو رہے ہیں لیکن ایک ایک دو دو سے کیا بنتا ہے۔ضرورت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بند توڑے۔اگر بند ٹوٹ جائیں اور ہزاروں لاکھوں آدمی احمدی ہونے لگیں تو ایک دو سال کے اندر ہر رنگ میں احمدیت اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ پھر قریب ترین زمانہ میں کوئی فکر کی صورت نہیں رہتی۔جب زیادہ تعداد میں لوگ مختلف ممالک میں احمدی ہو جائیں گے تو پھر کچھ عرصہ میں وہ اپنے آپ کو اور مضبوط کر لیں گے۔اور اس طرح بعید کا زمانہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔تو دعائیں کرو۔مجھے افسوس ہے کہ نو جوانوں میں جب جلسے ہوتے ہیں تب تو وہ نعرے لگا دیتے ہیں لیکن تہجد پڑھنے اور دعائیں کرنے کا رواج کم ہے۔حالانکہ تم سوچو تو سہی۔ہمارے ملک کی مثل ہے کہ " کیا پدی اور کیا پدی کا شور با “۔جو کام تمہارے ذمہ ہیں اُن کو پورا کرنے کے لیے تمہارے پاس طاقت ہی کہاں ہے۔اور دعا کے سوا تم کر ہی کیا سکتے ہو۔دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جو تمام ناممکن باتوں کو ممکن بنا دیتی ہے۔پس نو جوانوں کو خصوصاً دعاؤں کی عادت ڈالنی چاہیے۔بڑوں کو بھی یہ عادت ڈالنی چاہیے مگر نو جوانوں کو خصوصاً یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شور با بلکہ تم تو پدی سے بھی کم ہو۔تمہاری جان تو تبھی بچ سکتی 66