خطبات محمود (جلد 36) — Page 239
خطبات محمود جلد نمبر 36 239 $1955 ابھی دوسو سال میں بھی ممکن نظر نہیں آتی تھی وہ ایک دو سال کے اندراندر ہو گئی۔پھر عربوں کو دیکھ لو۔سارے عرب ممالک یورپین قوموں کے نیچے تھے۔کوئی حصہ انگریزوں کے ماتحت تھا اور کوئی فرانسیسیوں کے ماتحت تھا۔لیکن جب خدا کی تقدیر ظاہر ہوئی تو آپ ہی آپ وہ یورپین تو میں پیچھے ہٹ گئیں اور عرب ملکوں کو خدا نے آزاد کر دیا۔اب اسرائیل کو جو مد دامریکہ دے رہا تھا اس کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن نظر آتا تھا کہ عرب ملک اسرائیل کے حملے سے بچ سکتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے امریکہ اور روس میں رقابت پیدا کر دی اور روس نے کہا اچھا سامان واسلحہ ہم سے لو۔اور اب وہ مصر کو اتنا سامان دینے لگ گیا ہے اور شام اور لبنان کو بھی دینے کے لیے تیار ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے امریکہ گھبرا گیا ہے اور وہ روس کو کہہ رہا ہے کہ تم مصر وغیرہ کو اتنا سامان نہ دو۔اس دوران میں جب تک یہ زمانہ نہیں آیا تھا انگریزوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے فائدہ کے لیے اردن کی حکومت سے سمجھوتہ کریں۔وہ کروڑوں روپیہ سالانہ ان کو دیتے تھے اور ایک جرنیل بھی دیا جس نے اردن کی فوجوں کو اتنا سکھا دیا تھا کہ جب کبھی بھی اردن کی فوجوں اور اسرائیل میں لڑائی ہوئی ہے ہمیشہ اردن والے ہی جیتے ہیں۔حالانکہ وہ ایک نئی حکومت تھی۔اسی طرح انگریز اپنے مفاد کی خاطر ایک عرصہ تک عراق کو بھی سامان دیتے رہے جس کی وجہ سے اسرائیل کچھ ڈرتا رہا کہ اگر عراق، اردن اور مصرمل گئے تو شاید مقابلہ مشکل ہو جائے گا۔اور جب اس میں کچھ کمی کے آثار نظر آئے تو اللہ تعالیٰ نے روس کو کھڑا کر دیا اور اُس نے سامان بھیجنا شروع کر دیا۔تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا ورنہ در حقیت عرب جس طرح چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں پھٹا ہوا ہے اور اسرائیل کو جو طاقت امریکہ کی مدد سے حاصل ہو گئی تھی اُس کو دیکھتے ہوئے بڑا مشکل تھا کہ اسرائیل کا عرب مقابلہ کر سکتے۔مگر اللہ تعالیٰ نے روس کے دل میں رقابت پیدا کر دی اور اس طرح مسلمانوں کی نجات کے سامان پیدا کر دئیے۔اب یہ جو سامان مصر کو ملا ہے تو وہی اسرائیل جو کہتے تھے کہ ہم اگر چاہیں تو ہفتہ کے اندراندر سارے عرب کو فتح کر سکتے ہیں وہی اب امریکہ کی منتیں کر رہے ہیں کہ جلدی سامان دو، مصر بہت مضبوط ہو گیا ہے۔روسی سامان کی وجہ سے ہمارا ملک خطرہ میں پڑ گیا ہے۔تو دیکھو اللہ تعالیٰ کے فضل کس طرح دنیا میں سامان پیدا کر دیتے ہیں۔