خطبات محمود (جلد 36) — Page 232
$1955 232 خطبات محمود جلد نمبر 36 ابھی ربوہ کو ہی آباد کرنے کی کیا کوشش کی ہے؟ میں دیکھتا ہوں کہ میرے بار بار توجہ دلانے کے باوجود ابھی تک دوستوں نے ربوہ کو آباد کرنے کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔اس کے آباد کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں مختلف انڈسٹریاں جاری ہوں ، پیشہ ور لوگ یہاں آ کر اپنا کام شروع کریں اور ربوہ کی ترقی اور اس کی آبادی کا باعث بنیں۔لیکن ابھی تک یہ کام یہاں جاری نہیں ہوئے جس کی وجہ سے ربوہ کی آبادی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔پس دوستوں کو ربوہ کی آبادی کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ رکھنی چاہیے اور یہاں مختلف قسم کی صنعتیں اور انڈسٹریاں جاری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ ربوہ دوسرے شہروں کے اصول پر آباد ہو سکے اور اس کی آبادی ترقی کرتی چلی جائے۔قادیان چونکہ ہندوستان کا حصہ ہے اس لیے بیرونی ممالک یعنی امریکہ ، افریقہ اور دوسرے یورپین ممالک کی جماعتوں کا فرض ہے کہ جہاں تک قانون اُن کو اجازت دیتا ہو وہ اپنے بجٹ کا کچھ حصہ قادیان کے لوگوں کی امداد کے لیے بھجواتی رہیں۔بے شک اس کے نتیجہ میں ربوہ مرکز کو کسی قدر مشکلات پیش آسکتی ہیں لیکن اگر ہماری جماعت کے تعداد بڑھ جائے اور چندوں میں بھی اضافہ ہو جائے تو باوجود اس کے کہ بیرونی ممالک کی جماعتوں کے بجٹ کا ایک حصہ قادیان میں منتقل ہوتا رہے گا ر بوہ خدا تعالیٰ کے فضل سے پھر بھی آباد رہے گا۔بہر حال ہماری جماعت کے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ ربوہ میں مختلف قسم کی صنعتیں اور چھوٹی چھوٹی دستکاریاں جاری کریں تا کہ جس طرح دوسرے شہر اپنے طبعی سامانوں کی وجہ سے آباد ہیں وہی طبعی سامان ربوہ کو بھی میسر آجائیں اور اس کی آبادی ترقی کرتی چلی جائے۔تمام جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ یہ روح اپنے افراد میں پیدا کریں اور خصوصیت کے ساتھ ربوہ کو آباد کرنے کی طرف توجہ کی جائے۔البتہ امریکہ، افریقہ، یورپ اور دوسرے بیرونی ممالک کی جماعتیں چونکہ پاکستان سے باہر ہیں اور اُن پر پاکستان کا قانون عائد نہیں ہوتا اس لیے اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ زیادہ زور قادیان کو آباد کرنے پر لگائیں اور اُس سے اُتر کر ربوہ کی آبادی کی طرف کی توجہ کریں۔اگر ذمہ داری کو تقسیم کر لیا جائے تو یہ سارا کام سہولت سے ہو سکتا ہے۔پھر اگر تم خدا تعالیٰ سے بھی دعائیں کرو تو وہ تمہیں اس کام کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرما دے گا۔تم اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھوں میں دے دو اور