خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 225

خطبات محمود جلد نمبر 36 225 $1955 تمام مضامین قرآن کریم میں آچکے ہیں اس لیے اب اُنہیں دہرانے کی ضرورت نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے الہامات میں بھی کئی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔لیکن وہ قرآن کریم سے زائد نہیں بلکہ اس کی تشریح کے طور پر ہیں۔پس اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات قرآن کریم کے قائم مقام ہیں تو وہ اُن ساری برکتوں کی سے محروم ہو جائے گا جو قرآن کریم سے حاصل ہوتی ہیں۔نہ اس کے پاس سیاسی راہ نمائی رہے گی، نہ عقلی راہ نمائی رہے گی ، نہ اقتصادی اور معاشی راہ نمائی رہے گی۔وہ اسی طرح ٹامک ٹویئے مارتا پھرے گا جیسے قرآن کریم پر ایمان نہ لانے والے لوگ ٹامک ٹویئے مارتے پھرتے ہیں۔اور اگر وہ ان راہ نمائیوں کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے باہر جائے گا تو وہ آپ ہی اپنے عقیدہ کو چھوڑنے والا ہوگا۔کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ ہر قسم کی راہ نمائی آپ کے الہامات میں پائی جاتی ہے۔لیکن جب وہ یہ کہے گا کہ میں معاشی راہ نمائی کے لیے قرآن کریم کا محتاج ہوں ، جب وہ یہ کہے گا کہ میں سیاسی راہ نمائی کے لیے قرآن کریم کا محتاج ہوں ، جب وہ یہ کہے گا کہ میں روحانی اور عقلی راہ نمائی کے لیے قرآن کریم کا محتاج ہوں ، جب وہ یہ کہے گا کہ میں تمدنی اور عائلی راہ نمائی کے لیے قرآن کریم کا محتاج ہوں۔تو وہ خود اس بات کا اقرار کرے گا کہ یہ ساری باتیں قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں نہیں پائی جاتیں۔پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الہامات کو قرآن کریم پر ترجیح دیتے ہیں۔ہم جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو محمد رسول اللہ کا خادم اور غلام سمجھتے ہیں اسی طرح ہم آپ کے الہامات کو بھی قرآن کریم کا خادم یقین کرتے ہیں۔جس طرح خادم اپنے آقا کی چیزوں کی صفائی کرتا ہے اور ان کی نگرانی کرتا ہے اسی طرح قرآن کریم پر مسلمانوں نے اپنی غلط تشریحات کی وجہ سے جو گرد و غبار ڈال دی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اس گرد و غبار کو صاف کرتے ہیں۔لیکن کیا کوئی غلام اپنے آقا کی چیزوں کو اپنی طرف منسوب کر سکتا ہے؟ یا وہ اپنے آپ کو اس سے افضل قرار دے سکتا ہے؟ اُس کا کام تو اپنے آقا کے کپڑوں کو صاف کرنا ، انہیں سنبھال کر رکھنا ، جوتے پالش کرنا