خطبات محمود (جلد 36) — Page 199
$1955 199 خطبات محمود جلد نمبر 36 آئے اور انہوں نے اسلام کی خدمت کی روح کو تازہ رکھا۔مثلاً حضرت امام ابو حنیفہ کھڑ۔ہوئے۔حضرت امام شافعی کھڑے ہوئے۔حضرت جنید بغدادی کھڑے ہوئے۔شیلی کھڑے ہوئے۔حسن بصری کھڑے ہوئے۔خواجہ معین الدین صاحب چشتی ” کھڑ ہوئے۔سید عبدالقادر صاحب جیلانی" کھڑے ہوئے۔شہاب الدین صاحب سہروردی گھڑے ہوئے۔بہاؤ الدین صاحب نقشبندی کھڑے ہوئے۔شاہ ولی اللہ دہلوی کھڑے ہوئے۔نظام الدین صاحب اولیاء" کھڑے ہوئے۔قطب الدین صاحب بختیار کا کئی کھڑے ہوئے۔شیخ فرید الدین صاحب شکر گنج کھڑے ہوئے۔ان کے علاوہ اور ہزاروں بزرگ دنیا کے مختلف علاقوں میں کھڑے ہوئے جنہوں نے لاکھوں انسانوں کو اسلام میں داخل کیا اور اُن کی بدولت آج کروڑوں مسلمان صفحہ ہستی پر موجود ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حضرت ابوبکر کی نقل میں یہ کہا کہ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّداً فَإِنَّ مُحَمَّداً قَدُمَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوُٹ انہوں نے حضرت ابو بکر کے منہ سے نکلے ہوئے اس اہم نکتہ کو یا درکھا۔باوجود یکہ ان میں سے کسی کے زمانہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کو وفات پائے ایک ہزار سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور کسی کے زمانہ میں اس پر گیارہ سو سال گزر چکے تھے۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اسلام تمام ادیان پر غالب آجائے گا۔لیکن دنیا میں ابھی تھوڑے ہی مسلمان تھے کہ آپ فوت ہو گئے بلکہ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان تھوڑے سے نہ ہوتے تو ہمیں خدمت کا موقع کیسے ملتا۔وہ لوگ اسلام سے بدظن نہ ہوئے بلکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ ابھی اسلام کا کام باقی ہے جسے ہم پورا کریں گے۔چنانچہ وہ دین کی خدمت میں مشغول ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرماتے ہیں کہ مجھ سے پہلے مختلف لوگوں کے سامنے خدا تعالیٰ نے پیالے رکھے اور اب آخر میں وہ پیالہ میرے سامنے رکھا گیا ہے۔آپ کسی بڑے پیر کے مرید نہیں تھے اور نہ ہی آپ نے مروجہ دنیوی علوم حاصل کئے۔لیکن آپ ہی کی وجہ سے اب ساری دنیا میں تبلیغ ہورہی ہے اور سینکڑوں لوگ اسلام کو قبول کر رہے ہیں۔اگر تمہیں بھی یہ خیال آتا ہے کہ محمد رسول اللہ یہ بھی دنیا میں آئے اور گزر گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی دنیا میں آئے اور گزر گئے لیکن اسلام کو ماننے والے ابھی دنیا میں تھوڑے ہی ہیں تو میں تمہیں