خطبات محمود (جلد 36) — Page 200
خطبات محمود جلد نمبر 36 200 $1955 کہوں گا کہ تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ اگر دنیا کے بسنے والے سب مسلمان ہوتے تو ہمیں اسلام کی خدمت کا موقع کیسے ملتا۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ابھی دنیا میں ایسے لوگ باقی ہیں جنہوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا اب ہم انہیں مسلمان بنا ئیں گے۔پس گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔لوگ آتے ہیں اور مرتے ہیں۔لیکن مومن اپنے ایمان کی وجہ سے ہمیشہ اسلام کی زندگی اور اسکے دوبارہ عروج کا باعث بنتے رہتے ہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ قدرت ثانیہ دائی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی 3۔اس کے معنے یہی ہیں کہ جو لوگ حقیقی ایمان اپنے اندر رکھتے ہوں گے وہ کسی مرحلہ پر بھی مایوس نہیں ہوں گے۔بلکہ کہیں گے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے تو کیا ہوا ہم دنیا میں موجود ہیں جو منتشر لوگوں کو دوبارہ اکٹھا کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے تو بعض پرانے احمدیوں کے دلوں میں بھی شبہات پیدا ہو گئے تھے۔اور وہ سمجھتے تھے کہ آپ کی وفات بے وقت ہوئی ہے۔میری عمر اس وقت 19 سال کی تھی۔اللہ تعالیٰ نے معا میرے دل میں ایک بات ڈالی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جسدِ مبارک سامنے پڑا تھا۔میں دوڑ کر اس کے پاس گیا اور آپ کے سرہانے کھڑے ہو کر میں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اے خدا! تیرا یہ مامور دنیا میں آیا تھا۔تو نے اس سے بہت بڑے بڑے وعدے کئے تھے کہ اسلام ساری دنیا میں پھیلے گا۔لیکن ہوا یہ کہ ابھی اسلام کی دوبارہ اشاعت پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔اور بعض لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔اے میرے خدا! میں تیرے مامور کے سرہانے کھڑے ہو کر تیری ہی قسم کھا کر یہ عہد کرتا ہوں کہ چاہے سارے لوگ مرتد ہو جائیں میں اسلام کو نہیں چھوڑوں گا۔اور جب تک میں اسے دوبارہ دنیا میں قائم نہ کر لوں سانس نہیں لوں گا۔اب دیکھو خدا تعالیٰ نے مجھ سے کتنا بڑا کام لیا ہے۔اگر یہ تحریک دنیا میں جاری رہے اور ایسے مومن پیدا ہوتے رہیں جو ہر خطرہ اور ہر مصیبت کے وقت کہیں کہ اے خدا ! اس زلزلہ اور مصیبت کی وجہ سے خواہ ساری جماعت مرتد ہو جائے میں تیرے دین کے لیے اپنی جان پیش کروں گا اور اُس وقت تک سانس نہیں لوں گا جب تک کہ اسلام کو پھر دوبارہ دنیا میں قائم نہ کر لوں۔