خطبات محمود (جلد 36) — Page 197
$1955 197 خطبات محمود جلد نمبر 36 اپنی تنگی کی وجہ سے کہہ سکتے تھے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے سے معذور ہیں۔لیکن وہ تنگ دستی کے باوجود آگے آئے اور سلسلہ کی خدمت کے لیے اپنی جانیں پیش کر دیں۔گویا ایک وہ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے دہرا احسان کیا لیکن انہوں نے اس احسان کی ناقدری کی۔اور ایک وہ ہیں جو غریب تھے ، تنگ دست تھے اور خدا تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن یہ کہہ سکتے تھے کہ اے اللہ ! ہم خالی ہاتھ تھے۔لیکن جب بھی تیرے دین کو ہماری خدمات کی ضرورت پیش آئی ہم نے خوشی سے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔اور اُن کی یہ بات خدا تعالیٰ کو یقیناً پیاری لگے گی اور وہ کہے گا تم سچ کہتے ہو۔ان غداروں پر میں نے بہت بڑا احسان کیا تھا مگر انہوں کی نے میرے دیئے ہوئے اموال سے فائدہ بھی اٹھایا اور پھر وہ ان اموال کی وجہ سے اتنے غافل ہو گئے کہ انہوں نے میرا خیال چھوڑ دیا اور تن پروری شروع کر دی۔تم یقیناً اُن لوگوں سے ہزاروں گنا بہتر ہو اور میرے مقرب ہو۔بے شک تم دنیا کی نظر میں ذلیل تھے لیکن میری نظر میں تم معزز ہو کہ باوجود مخالف حالات کے اور باوجود اس کے کہ شیطان تمہیں ورغلاتا تھا کہ تمہیں خدا تعالیٰ نے کیا دیا ہے کہ تمہیں اس کے دین کی فکر پڑی ہوئی ہے تم نے اپنے آپ کو سلسلہ کی خدمت کے لیے پیش کر دیا۔میں جانتا ہوں کہ اُن لوگوں پر جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے اموال سے فائدہ اٹھا کر اُس سے غداری کی ہے۔اور پھر اس سے بڑھ کر وہ لوگ جنہوں نے جماعت کے روپیہ سے تعلیم حاصل کی اور پھر اس سے غداری کی۔اُن پر میرے ان خطبوں کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔کیونکہ وہ مُردہ دل ہیں اور مر دوں کو کوئی انسان اپنی بات نہیں سنا سکتا۔خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُورِ 1 تُو مُردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتا۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مُردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے تھے تو پھر میں کیسے سنا سکتا ہوں۔پس جن لوگوں کے دل مردہ ہو گئے ہیں انہیں میں نے کیا سنانا ہے۔مگر جو لوگ زندہ دل تھے وہ بغیر میرے کہنے کے آپ ہی آپ خدمت دین کے لیے جمع ہو گئے اور آئندہ بھی جمع ہوتے چلے جائیں گے۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دل میں اسلام کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے کی روح کو تازہ رکھیں اور اس کے لیے آدمی مہیا کرتے رہیں۔