خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 153

$1955 153 خطبات محمود جلد نمبر 36 مگر وہاں جاتے ہی چاروں طرف سے اطلاعات آنی شروع ہو گئیں کہ ہم نے اتنی رقوم آپ کے نام پر بنک میں جمع کرادی ہیں اور یہ پاکستانی رقوم نہیں تھیں کہ اس پر پاکستان گورنمنٹ کو کوئی اعتراض ہوتا۔پھر صحت کے لیے ڈاکٹروں نے سیر کرنا ضروری قرار دیا تھا اور مختلف ممالک کی سیر کے لیے بڑی بھاری رقم کی ضرورت تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ باہر سے جو روپیہ آیا اُس سے یہ اخراجات بھی پورے ہو گئے اور دو موٹر ہم نے خرید لئے۔آتی دفعہ ہمیں فکر ہوا کہ یہ موٹر جب ہم پاکستان میں لے گئے تو گورنمنٹ پاکستان ہمیں پکڑے گی کہ ہم نے تو صرف پانچ سو پاؤنڈ دیا تھا اور وہ بھی علاج کے لیے، یہ تیرہ چودہ سو پاؤنڈ کی موٹر میں کہاں سے آگئیں۔اس پر ہم نے وہاں کے بنک کو لکھا کہ تم اس امر کی تصدیق کر دو کہ یہ روپیہ ہمیں امریکہ اور افریقہ وغیرہ سے آیا ہے۔پاکستان کا اس روپیہ سے کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ بنک نے تصدیق کر دی جو پاکستان گورنمنٹ نے تسلیم کی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری تمام ضروریات پوری ہوگئیں۔بہر حال میں یہ بتارہا تھا کہ آپ لوگوں کے صحابی بنے کا کوئی رستہ نہیں تھا مگر آپ لوگوں میں سے ہر شخص جب صحابہ کے حالات کو پڑھتا تو اُس کا دل چاہتا تھا کہ کاش! وہ بھی صحابہ میں شامل ہوتا اور وہ بھی اُس مقام کو حاصل کرتا جو انہوں نے حاصل کیا تھا۔اس آیت میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی اس خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَيكَ مِنْكُمُ صحابه میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ابھی ایمان نہیں لائے۔وہ بعد میں ایمان لائیں گے اور دین کی خاطر انہیں ہجرت بھی کرنی پڑے گی۔جیسے کئی لوگ ایسے تھے جو ابتدائے سلسلہ میں ہی قادیان میں ہجرت کر کے آگئے۔وہ فخر کرتے تھے کہ ہم نے ہجرت کی اور اُس وقت کی جب قادیان ایک چھوٹی سی بستی تھی اور اُس میں صرف چند گھرانے آباد تھے مگر پھر ہمیں قادیان سے نکالا گیا اور ربوہ کی آبادی کے لیے دوستوں کو ہجرت کرنی پڑی۔اس طرح بعد میں آنے والوں کے لیے پھر خدا نے ہجرت کا موقع پیدا کر دیا اور انہیں بھی فخر کا ایک موقع حاصل ہو گیا۔قادیان میں جو لوگ ابتدائی زمانہ میں ہجرت کر کے آئے اور انہوں نے مکان بنائے وہ بعض دفعہ فخریہ طور پر کہا کرتے تھے کہ ہم نے قادیان میں