خطبات محمود (جلد 36) — Page 94
خطبات محمود جلد نمبر 36 94 $1955 اور میری اس عمر کے لحاظ سے یہ بہت زیادہ کام تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں اس سے قبل بہت زیادہ کام کرتا رہا ہوں لیکن اب میری صحت ویسی نہیں ہے جیسی جوانی کے ایام میں تھی۔ایک ڈاکٹر نے مجھے بتلایا کہ اگر چند سال قبل مجھے اس قدر کام نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا تو غالبا اس بیماری کا حملہ نہ ہوتا۔برادران! خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے پھر کب ہم ایک دوسرے سے ملیں گے لیکن مجھے امید ہے کہ ہمارے دل ہمیشہ ایک دوسرے کے قریب رہیں گے۔میں یہاں تھوڑے عرصہ کے لیے آیا تھا اور جلد ہی آپ لوگوں سے رخصت ہو رہا ہوں۔اور موجودہ حالات میں میں یہ خیال نہیں کر سکتا کہ دوبارہ جلد آپ کے پاس آسکوں گا۔اگر چہ میں نے پختہ ارادہ کیا ہے کہ انشاء اللہ سفر سے واپسی پر ایک دو دن کے لیے یہاں مسجد کی افتتاحی تقریب میں شمولیت کے لئے آؤں گا۔اگر ایسا ہوا تو امید کرتا ہوں تقریباً ایک ماہ تک میں ایک دو دن کے لئے یہاں آؤں گا اور دوبارہ آپ سے مل کر اپنے دل کو خوش کر سکوں گا۔برادران! چونکہ میں ایک دور دراز کے مقام پر رہتا ہوں اس لئے یہ بات آپ لوگوں کے لیے بہت مشکل ہے کہ آپ کثرت سے میرے پاس آسکیں۔اسی طرح یہ بات میرے لئے بھی اس عمر میں اور اس بیماری کی حالت میں ناممکن ہے کہ میں تمہارے پاس بار بار آ سکوں۔اس لئے طبعی طور پر میری یہ خواہش ہے کہ جو کچھ میں کہوں وہ آپ اچھی طرح یا درکھیں۔اگر میں آپ لوگوں کے پاس بار بار آنے کے قابل ہوتا تو میں خیال کرتا کہ جو کچھ میں اب کہتا ہوں انہی باتوں کو میں اپنی دوبارہ آمد کے موقع پر دہراؤں گا۔لیکن چونکہ دوسرا موقع ابھی بہت فاصلہ پر ہے اس لیے طبعی طور پر میری یہ انتہائی خواہش ہے کہ جو کچھ میں آپ سے کہوں آپ اُس کو یاد کریں اور اُس بلند معیار تک پہنچ جائیں جو اسلام آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ لوگ اس کے لیے کوشش کریں تو آسانی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ایسی جماعت جس میں مسٹر صادق وانڈر لینڈ اور مسٹر عبد اللطیف ڈی لائین جیسے جو شیلے کا رکن موجود ہوں وہ ضرور ایسا کر سکتی ہے۔یہ نوجوان اپنے یقین اور ایمان میں اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ انسان ان کے چہروں سے ہی اُس جوش کا اندازہ لگا سکتا ہے جو ان کے دلوں میں اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ واشاعت کے لیے پایا جاتا ہے۔