خطبات محمود (جلد 36) — Page 95
خطبات محمود جلد نمبر 36 95 55 $1955 حقیقت یہ ہے کہ جب بھی دنیا میں سچائی آتی ہے تو وہ ہمیشہ ایک بیج کی طرح آتی ہے۔جب کی میں نو جوانی کو پہنچا تو اُس وقت میں نے اپنا ایک اخبار "الفضل " نامی جاری کیا تھا۔بلکہ اس سے بھی پہلے جب میں صرف چودہ سال کی عمر کا تھا تو میں نے ایک ماہوار رسالہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے نکالا تھا۔اور پہلا مضمون جو میں نے اُس میں لکھا اُس کا مضمون یہ تھا کہ تم یہ نہ دیکھو کہ اس وقت کتنے احمدی ہیں۔بلکہ تم قدرت کے کام کی طرف دیکھو۔تم دیکھتے ہو کہ یہ بڑے بڑے جنگلات جو سینکڑوں میل میں پھیلے ہوئے ہیں یہ صرف چھوٹے سے بیج سے شروع ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک چھوٹا سا بیج اس زمین میں بویا گیا اور اُس نے اس زمین میں جڑیں پکڑ لی ہیں اور اب اس سے ایک عظیم الشان درخت پیدا ہوا ہے۔اگر آئندہ اس درخت سے اور بیج پیدا ہوں گے اور وہ زمین پر گریں گے اور ایک درخت کی جگہ کئی درخت اگیں گے تو اس طرح آہستہ آہستہ ان چھوٹے چھوٹے بیجوں سے بڑے بڑے باغات پیدا ہو جائیں گے۔یہی حالت سچائی کی ہوتی ہے۔جب میری عمر انیس سال کی تھی تو احمدیوں کی تعداد صرف چند سو تھی۔اُس وقت میں نے کہا کہ اگر چہ اس وقت ہم صرف چند سو ہیں لیکن ایک وقت آئے گا جبکہ ہم ہزاروں، پھر لاکھوں ، پھر کروڑوں کی تعداد میں ہو جائیں گے۔اب تم اُس زمانہ پر جس وقت میں نے یہ مضمون لکھا نظر ڈالو اور جماعت کی موجودہ حالت کو دیکھو تمہیں پتا لگے گا کہ ہماری جماعت نے کیسی حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ایک جلسہ سالانہ میں جب کہ قادیان میں احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے اُن کی تعداد صرف سات سو تھی۔لیکن اب ہر سال جلسہ سالانہ پر پچاس ہزار لوگ صرف اُس کے شاگر داور خلیفہ کے پاس جمع ہوتے ہیں۔یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے۔اُس زمانہ میں ان سات سو میں کوئی ایک بھی غیر ملکی نہیں تھا لیکن اب اس زمانہ میں سالانہ اجتماع کے موقع پر افریقہ، امریکہ، یورپ اور کئی دوسرے ممالک کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔وہ صرف اس لئے جوق در جوق آتے ہیں تا کہ وہ آقا کو نہیں بلکہ اس کے شاگرد کو دیکھیں اور بانی جماعت کو نہیں بلکہ اس کے خلیفہ کی زیارت کریں۔یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے ہر قوم کے لوگوں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ڈال دی ہے۔لیکن ابھی صرف ابتدا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک کتاب ہے جو تھوڑا ہی عرصہ ہوا میں پڑھ رہا تھا۔لیکن اب