خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 39

خطبات محمود جلد نمبر 36 39 $1955 پس مبلغین اور دوسرے علماء کا کام ہے کہ وہ اس قسم کا لٹریچر تیار کریں جس کی اس زمانہ میں ضرورت ہے۔وہ اُس طرز پر تصنیف نہ کریں جس طرز پر پچھلے علماء تصنیف کرتے چلے آئے ہیں۔اگر تم نماز کی صرف رکعات اور سجدے بیان کرتے ہو تو یورپ والوں کی سمجھ میں تمہاری بات نہیں آسکتی۔لیکن اگر تم اس طرز سے یہ بات پیش کرو کہ نماز سے تمہارے اخلاق ، احساسات اور جذبات پر یہ اثر پڑتا ہے تو یورپ والوں کی سمجھ میں یہ بات آجائے گی اور وہ تمہاری بات سننے کے لئے تیار ہو جائیں گے کیونکہ وہ علم النفس کو سمجھتے ہیں۔کوئی زمانہ تھا جب یہ کہا جاتا تھا کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے نماز پڑھو تو لوگ بات مان لیتے تھے۔لیکن اب اگر کہا جائے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے نماز پڑھو تو لوگ کہیں گے خدا تعالیٰ کو نماز کی کیا ضرورت ہے۔ہر ایک زمانہ کی زبان الگ الگ ہوتی ہے اور اپنی بات سمجھانے کے لئے اُس زبان میں بات کرنی پڑتی ہے جسے لوگ سمجھتے ہوں۔ایک بزرگ نے اپنے پاس بیٹھنے والوں سے دریافت کیا کہ جنت کیوں اچھی ہے؟ تو کسی نے کہا اس میں بڑی بڑی نعماء ملیں گی اس لئے وہ اچھی ہے۔کسی نے کہا جنت میں مومن کو دائمی زندگی ملے گی اس لئے وہ اچھی ہے۔غرض ہر ایک نے کوئی نہ کوئی وجہ بیان کر دی۔اس بزرگ نے کہا میرے لئے دوزخ اور جنت دونوں برابر ہیں۔اگر خدا تعالیٰ مجھے دوزخ میں ڈالتا ہے تو میرے نزدیک دوزخ اچھی ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ مجھے جنت میں ڈالتا ہے تو میرے نزدیک جنت اچھی ہے۔یہ ایک عشقیہ رنگ تھا جو آجکل نہیں چلتا۔اب اگر کہیں کہ مومن کو جنت ملے گی تو لوگ کہتے ہیں جنت کہاں ہے؟ کس جگہ ہے؟ خدا تعالیٰ نے جنت کیوں بنائی ہے؟۔غرض اس زمانہ میں پرانے جوابات سے لوگ مطمئن نہیں ہوتے۔صرف یہ کہہ دینا کہ خدا تعالی خوش ہو گا لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے کافی نہیں۔تصوف آئے گا تو یہ باتیں لوگ مان لیں گے اس سے پہلے نہیں۔کسی زمانہ میں اگر یہ کہا جاتا تھا کہ خدا تعالیٰ ہمیں دوزخ میں بھی ڈال دے تو ہم اس پر راضی ہیں تو جسم پر جذبہ ایمان سے کپکپی آ جاتی تھی۔لیکن اب یورپ والے اس بات پر ہنس پڑتے ہیں۔ہاں وہ مادی زبان اور علم النفس کی بات کو فورا مان جاتے ہیں۔باقی باتوں کے ماننے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتے۔اس لئے قرآن کریم نے دونوں قسم کی باتوں کو لیا کی ہے۔اس نے عشقیہ رنگ کو بھی لیا ہے۔جیسے فرمایا ہے اے رسول! جس نے تیرے ہاتھ پر ہاتھ