خطبات محمود (جلد 36) — Page 38
خطبات محمود جلد نمبر 36 38 $1955 نہیں لیتا۔آپ نے باری باری ساری چیزیں اُس کے سامنے پیش کیں۔لیکن وہ یہی کہتا گیا کہ میں نہیں کھاتا۔حضرت نانا جان جن سے سارے ڈرتے تھے۔اُس کی منت سماجت کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے تم یہ چیز کھا لو۔پھر میں تمہیں تمہاری حسب خواہش سب چیز میں لا دوں گا۔لیکن وہ انکار پر انکار کر رہا تھا۔ہم دوسرے کمرے میں ہنس رہے تھے کہ کس طرح نانا جان اس یتیم بچے کے سامنے یتیم بنے بیٹھے ہیں۔جب آپ نے دیکھا کہ وہ کوئی بات نہیں مانتا تو آپ نے جوتی اُتار لی اور اسے کہا کھاتا ہے یا نہیں کھاتا؟ اس نے کہا میں ابھی کھا لیتا ہوں۔اب وہ بچہ جوتی کا عادی تھا۔یتیم تو تھا ہی چھاؤں نے مار کھانے کی عادت ڈال دی تھی۔اور نا نا جان پیار کر رہے تھے۔اس لئے آپ جتنا پیار کرتے تھے وہ سمجھتا تھا کہ میری عزت ہو رہی ہے۔لیکن جب آپ کا پیمانہ صبر کا لبریز ہو گیا تو آپ نے جوتی اٹھالی اور اس پر وہ فورا مان گیا۔پس ہر ایک شخص کی بولی الگ الگ ہے۔جو لوگ پیار سے ماننے والے ہیں وہ پیار سے ہی مانیں گے سختی سے بگڑ جائیں گے۔اور جولوگ سختی سے ماننے والے ہیں وہ بختی سے ہی مانیں گے نرمی سے بگڑ جائیں گے۔پس لوگوں کی زبانوں میں فرق ہے، لہجوں میں فرق ہے، طریق نصیحت میں فرق ہے ، اخلاق میں فرق ہے اور ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسروں کو سمجھانا پڑتا ہے۔جو شخص اس بات کو مد نظر نہیں رکھتا اور علم النفس کا ماہر نہیں ہوتا وہ صحیح مبلغ نہیں بن سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف لوگوں سے مختلف طریق سے گفتگو فرماتے تھے۔عورتوں سے اور رنگ میں کلام فرماتے ، مردوں سے اور رنگ میں بات کرتے۔مہاجروں سے اور رنگ میں گفتگو فرماتے اور انصار سے کلام فرماتے تو آپ کا رنگ اور ہوتا۔ایک ہی بات کو سننے والوں کی نسبت سے چکر دے کر بیان فرماتے اور اس رنگ میں کہتے کہ وہ خوبصورت نظر آتی۔مہاجروں کا ذکر آتا تو آپ فرماتے ہیں جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی خاطر اپنے وطن چھوڑ دیئے ، اپنے مال چھوڑ دیئے ان سے اچھا اور کون ہوسکتا ہے۔اور انصار سے گفتگو فرماتے تو آپ اس رنگ میں گفتگو فرماتے کہ جن لوگوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے محض خدا تعالیٰ کی خاطر اپنے مال پیش کر دئیے، اُن پر اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے۔ان سے اچھا اور کون ہوسکتا ہے۔اس طرح دونوں فریق خوش وتے اور اپنی اپنی جگہ قربانی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔ہو