خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 281

$1955 281 خطبات محمود جلد نمبر 36 کا کام بھی کریں گے تو میں اُسے خوشی سے کروں گا لیکن خلیفہ وقت کا حکم بہر حال جاری ہونا چاہیے۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا کمان تو مجھے لینی ہی پڑے گی کیونکہ خلیفہ وقت کی طرف سے یہ حکم آچکا ہے۔لیکن تم کام کرتے جاؤ۔خالد نے کہا آپ حکم دیتے جائیں میں کام کرتا جاؤں گا۔چنانچہ بعد میں ایسے مواقع بھی آئے کہ جب ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں سوسو عیسائی تھا لیکن خالد نے ہمیشہ یہی مشورہ دیا کہ ہم اُن کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ہم اپنی جانیں دیں گے اور فتح حاصل کریں گے۔یہ وہ جرات تھی جس نے عیسائیوں کو طاقت کے باوجود بھگا دیا۔عیسائی بادشاہوں نے بار بار لشکر بھیجے اور ہر بار جولشکر آتا تھا وہ پہلے لشکر سے طاقت میں بڑھ کر ہوتا تھا۔لیکن وہ ہر دفعہ مسلمانوں سے شکست کھاتا تھا۔ایک دفعہ بادشاہ نے اپنے ایک جرنیل ماہان کو مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے بھیجا۔دس لاکھ سپاہی ساتھ دیئے اور کہا کہ اگر تم نے مسلمانوں کے مقابلہ میں فتح حاصل کی تو میں تمہیں اپنی لڑکی کا رشتہ دوں گا اور اپنے تخت پر تمہیں بٹھاؤں گا۔عیسائی مؤرخین کے بیان کے مطابق مسلمانوں کے لشکر کی تعداد صرف تمہیں ہزار تھی۔بعض مؤرخین نے اس کی زیادہ سے زیادہ تعداد ساٹھ ہزار بھی بتائی ہے۔لیکن اسلامی مؤرخین نے لکھا ہے کہ مسلمان لشکر کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہیں ہزار تھی۔لیکن اس میں ہزار کے لشکر نے یا عیسائی مورخین کے بیان کے مطابق تمیں ہزار یا زیادہ سے زیادہ ساٹھ ہزار کے لشکر نے دس لاکھ کے لشکر کا مقابلہ کیا اور اُسے شکست دی۔بلکہ ایک موقع تو ایسا آیا جب ساٹھ ہزار تجربہ کا رسپاہیوں پر مشتمل لشکر پر صرف ساٹھ مسلمانوں نے حملہ کیا۔گویا ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں ایک ایک ہزار عیسائی تھے لیکن خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی۔اگر تم بھی اپنے ایمانوں کو اس قدر بلند کر لو تو اسلام کے شکست کھانے کی کوئی وجہ نہیں۔وہ اب بھی آگے ہی بڑھتا جائے گا اور ترقی کرتا جائے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تم اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو اور دنیا سے اپنی نگاہ ہٹا لو۔دنیا عارضی چیز ہے۔تم آج چارسو یا پانچ سو کی نوکری کے پیچھے نہ پڑو بلکہ اُس دن کے امیدوار رہو جب خدا تعالیٰ تم کو غلبہ دے گا اور بادشاہ تمہارے ہاتھوں کو بو سے دیں گے اور ملک تم سے درخواست کریں گے کہ ہماری حکومت تم سنبھالو۔وہ دن خواہ ابھی دیر میں آنے والا ہو لیکن اگر تم قربانیوں میں آگے بڑھ جاؤ تو وہ قریب