خطبات محمود (جلد 36) — Page 278
خطبات محمود جلد نمبر 36 278 $1955 فوت ہوئے تو آپ کو اس قد رصدمہ ہوا کہ چند دن گزرنے پر آپ نے شام کے بعد دوستوں کی میں بیٹھنا چھوڑ دیا۔لوگوں نے کہا حضور ! آپ شام کے وقت بیٹھا کرتے تھے تو بہت مزا آتا تھا ، آپ گفتگو فرماتے تھے تو ہمارے ایمان ترقی کرتے تھے لیکن اب آپ نے بیٹھنا چھوڑ دیا ہے۔آپ نے فرمایا جب میں باہر دوستوں میں بیٹھا کرتا تھا تو مولوی عبد الکریم صاحب میرے دائیں بیٹھے ہوتے تھے۔اب میں بیٹھتا ہوں اور مولوی صاحب نظر نہیں آتے تو میرا دل گھٹنے لگتا ہے اس لیے میں نے مجبوراً یہ طریق چھوڑ دیا ہے۔لیکن مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہوئے تو سلسلہ کو اور خادم مل گئے۔آپ کی وفات کے بعد آپ کا کام مفتی محمد صادق صاحب نے سنبھال لیا۔مفتی صاحب کی صحت کمزور تھی لیکن انہوں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں کے ساتھ اس قدر خط و کتابت کی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ انہیں ایک نیا ذریعہ مل گیا ہے۔بہر حال ان کے بعد کام چلتا چلا گیا۔اب مولوی شیر علی صاحب قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ اور تفسیر لکھ رہے تھے۔آپ فوت ہوئے تو میرے دل کو صدمہ ہوا کہ اُن کا کام کون سنبھالے گا ؟ اس پر خدا تعالیٰ نے ملک غلام فرید صاحب کو اس کام کے سنبھالنے کی توفیق دے دی۔مگر چاہیے تھا کہ ایک ایک مرنے والے کی جگہ چار چار پانچ پانچ آدمی آگے آتے اور اس کا کام سنبھالنے کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتے۔یاد رکھو ہم نے قرآن کریم اور اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا ہے اور اس کے لیے ہمیں متواتر آدمی چاہئیں۔جب تک ہمیں متواتر آدمی نہیں ملیں گے ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی تھے وہ سلسلہ کے کامیاب مبلغ تھے اور اُن کے تعلقات بہت وسیع تھے اس لیے باہر ان کا اثر زیادہ تھا۔محمد ناصر جو انڈونیشیا کی مسجومی 6 پارٹی کے لیڈر ہیں اور ملک کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں انہیں ہم یہاں سے ریویو آف ریلیجنز بھجوایا کرتے تھے۔کل ہی انڈونیشیا سے چٹھی آئی ہے کہ اُن کے پاس ہمارے بعض دوست ملنے کے لیے گئے تو اُن کے سیکرٹری نے بتایا کہ وہ اس رسالہ کی با قاعدہ جلد بندی کرا کے اپنی لائبریری میں رکھتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس رسالہ کا مطالعہ کیا کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی تھی کہ رسالہ پر ایک ایسے شخص کا نام لکھا ہوا ہوتا تھا جو اسلام