خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 194

$1955 194 خطبات محمود جلد نمبر 36 کریں گے۔چونکہ اگلی نسل کا وقف تمہارے اختیار میں نہیں اس لیے صرف تحریک کرنا تمہارا کام ہوگا۔اگر وہ نہیں مانیں گے تو یہ اُن کا قصور ہو گا۔تم اپنے فرض سے سبکدوش سمجھے جاؤ گے۔اگر تم یہ کام کرو گے اور یہ روح جماعت میں نسلاً بعد نسل پیدا ہوتی چلی جائے گی اور ہر فرد یہ کوشش کرے گا کہ اس کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں واقف زندگی دین کی خدمت کے لیے مہیا ہو جائیں گے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کی تحریک فرمائی ہے۔تمہیں یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ تم میں سے ہر شخص وصیت کرے۔اور پھر اپنی اولاد کے متعلق بھی کوشش کرے کہ وہ بھی وصیت کرے۔اور وہ اولا دا پنی اگلی نسل کو وصیت کی تحریک کرے۔یہ بھی دین کی خدمت کا ایک بڑا بھاری ذریعہ ہے۔اگر ہم ایسا کر لیں تو قیامت تک تبلیغ اور اشاعت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔پھر جتنی تدبیریں ہم کرتے ہیں اُن میں کوئی نہ کوئی رخنہ باقی رہ جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی تدبیر میں کوئی رخنہ نہیں ہوتا۔اس لیے اصل چیز یہ ہے کہ تم دعائیں کرو اور اس خطبہ کو بار بار پڑھو۔اور اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں انہیں یاد رکھو۔اور اگر چہ یہ مختصر سا خطبہ ہے لیکن اگر چاہو تو اس میں سے بھی جو بات تمہیں زائد معلوم ہوا سے کاٹ دو اور باقی مختصر حصہ کو چھپوا کر جماعت میں کثرت سے پھیلاؤ تا کہ ہر فرد کے اندر بیداری پیدا ہو۔میں نے جماعت میں جو وقف کی تحریک شروع کی ہے اس کے بعد میرے پاس تین درخواستیں آئی ہیں۔ایک تو میرے پوتے مرزا انس احمد کی ہے جو عزیزم مرزا ناصر احمد کا لڑکا ہے۔اللہ تعالیٰ اُسے اپنی نیت کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔انس احمد نے لکھا ہے کہ میرا ارادہ تھا کہ میں قانون پڑھ کر اپنی زندگی وقف کروں لیکن اب آپ جہاں چاہیں مجھے لگا دیں۔میں ہر طرح تیار ہوں۔ایک درخواست ماسٹر سعد اللہ صاحب کی آئی ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے ایم اے کا امتحان دیا ہوا ہے۔اس میں کامیاب ہونے کے بعد آپ جہاں چاہیں مجھے لگا دیں۔تیسری درخواست باہر کے ایک لڑکے کی ہے جو ابھی چھوٹی جماعت کا طالب علم ہے۔میں نے اسے کہا ہے کہ وہ میٹرک پاس کر کے جامعہ احمدیہ میں داخلہ لے۔کیونکہ جب تک جامعہ میں زیادہ