خطبات محمود (جلد 36) — Page 184
$1955 184 خطبات محمود جلد نمبر 36 کہ تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو 1 اور یہ کہ اپنی جان کا فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے اور نہ اپنے بدن کا کہ کیا پہنیں گے۔2 عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے اس حکم کو سنا اور انہوں نے ساری عمر دنیا میں تبلیغ شروع کر دی۔اس کے مقابلہ میں ہمارے ہاں وقف پر خصوصیت کے ساتھ زور دیا گیا ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو پچاس روپے بھی باہر زیادہ ملتے ہوں تو وہ دنیا کی طرف جھک جا ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے پوتے موجود ہیں جو آٹھ آٹھ نو نو کی خاطر وقف سے بھاگ گئے ہیں۔پھر دوسرے لوگوں پر کوئی کیا گلہ کرسکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ احمدیت کو دنیا میں ضرور پھیلائے گا اور اگر آپ کی اپنی نسل وقف سے بھاگے گی تو خدا تعالیٰ باہر والوں کو اس کی توفیق عطا فرما دے گا اور وہ آپ کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچادیں گے۔لیکن بدقسمت ہیں وہ لوگ جو گھر میں آئی ہوئی برکت کو چھوڑتے ہیں اور بدقسمت ہیں وہ ماں باپ جو اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ اُن کا لڑکا آٹھ سو یا نو سو روپیہ ماہوار کمارہا ہے اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ دین سے بھاگ گیا ہے۔کیا عیسائی مشنریوں میں ایسے لوگ موجود نہیں تھے جو اگر دین کو چھوڑ کر دنیا کمانے لگ جاتے تو آٹھ نو سو روپیہ ماہوار کی آمد پیدا کر لیتے ؟ پادری قریباً سارے کے سارے ایسے خاندانوں میں سے ہیں کہ اگر وہ دنیا وی کا موں میں لگتے تو ہزاروں روپے ماہوار تنخواہ پاتے۔لیکن اُنہوں نے دنیا کی بجائے دین کو ترجیح دی اور عیسائیت کی اشاعت کے لیے اپنی زندگی بسر کر دی۔ہماری جماعت کے افراد کو بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ احمدیت کی اشاعت کے لیے کیا کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تین سوسال میں احمدیت ساری دنیا میں پھیل جائے گی 3۔اگر ایک نسل کے ہیں سال بھی فرض کر لئے جائیں تو تم سمجھ سکتے ہو کہ 300 سال میں پوری پندرہ نسلیں آجاتی ہیں۔گویا اگر ہماری پندرہ نسلیں یکے بعد دیگرے اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کرتی چلی جائیں تب وہ کام پورا ہوسکتا ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے۔مگر کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ منشاء تھا کہ اور لوگوں کی نسلیں تو اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کریں اور میری اپنی نسل وقف نہ کرے؟ آخر جو شخص دوسروں سے کوئی مطالبہ کرتا ہے اُس کی اپنی نسل سب سے پہلے