خطبات محمود (جلد 36) — Page 185
$1955 185 خطبات محمود جلد نمبر 36 اس مطالبہ کی مخاطب ہوتی ہے۔لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی نسل بد عہدی کرے گی تو یقیناً خدا تعالیٰ دوسرے لوگوں میں سے اسلام کے بہادر اور جان نثار سپاہی کھڑے کر دے گا۔چنا نچہ دیکھ لو جب ایک طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایسے مشرک پیدا ہوئے جنہوں نے کعبہ میں بھی سینکڑوں بت رکھ دیئے تو دوسری طرف عراق کے علاقہ میں حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت جنید بغدادی جیسے بزرگ پیدا ہوئے جنہوں نے دین کی بڑی خدمت کی۔اسی طرح ایک دوسرے ملک سے حضرت معین الدین صاحب چشتی آگئے اور انہوں نے اسلام پھیلایا۔پس جہاں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کو توجہ دلاتا ہوں وہاں میں جماعت سے بھی کہتا ہوں کہ تمہیں یکے بعد دیگرے کم از کم اپنی پندرہ نسلوں کو وقف کرنا ہو گا۔لیکن تم تو ابھی سے گھبرا گئے ہو اور ابھی سے تمہارا یہ حال ہے کہ جو شخص دین کی خدمت کے لئے آتا ہے اُس کو یہ خیال آتا ہے کہ اُس کا گزارہ کیسے ہوگا ؟ سیدھی بات ہے کہ روپیہ ہو گا تو گزارہ ملے گا۔اور روپیہ اُسی وقت آئے گا جب نئے احمدی بنیں گے۔تم پچاس لاکھ احمدی لے آؤ تو تمہارے گزارے خود بخود بڑھ جائیں گے۔بہر حال دنیا اس وقت اسلام کی آواز سنے کی منتظر ہے اور اس کے لیے ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دین کی خدمت کے لیے آئیں اور اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کریں۔اسی طرح اس کے لیے مرکز کی مضبوطی کی بھی ضرورت ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ہمارا مرکز ابھی تک اُن اصول پر آباد نہیں جن اصول پر دوسرے شہر آباد ہوتے ہیں۔دوسرے شہر خود اپنی ذات میں قائم ہوتے ہیں۔مثلاً لائل پور ہے ، سرگودھا ہے ان شہروں میں کچھ کا رخانے ہیں اور کچھ بڑی زمینداریاں ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنی ذات میں قائم ہیں۔لیکن ربوہ میں نہ کارخانے ہیں اور نہ زمینداریاں ہیں۔جتنی دیر تک جماعت چندہ دیتی چلی جائے گی یہاں انسٹی ٹیوشنز چلتی رہیں گی سکول اور کالج قائم رہیں گے، اور اگر خدانخواستہ جماعت چندہ دینے میں سستی دکھائے تو یہ چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ابھی ہماری جماعت میں حضرت معین الدین صاحب چشتی" جیسے لوگ پیدا نہیں ہوئے جو کہیں چلو فاقہ ہے تو فاقہ ہی سہی اور نہ ہی جماعت میں