خطبات محمود (جلد 36) — Page 178
$1955 178 خطبات محمود جلد نمبر 36 پادریوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔اتنے آدمیوں میں جو جوش اور اخلاص پایا جاتا ہے وہ صرف حضرت مسیح علیہ السلام کے لائے ہوئے پیغام کی اشاعت کے لیے ہے۔اسی طرح اسلام کی تبلیغ کے لیے ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیل جائیں اور اسلام کی اشاعت کریں۔پھر اس بات کی ضرورت ہے کہ اعلیٰ اخلاص، دیانت اور تقویٰ والے لوگ مرکز میں جمع ہوں اور انہیں مرکزی کاموں پر لگایا جائے۔جو کام اس وقت ہمارے سامنے ہے وہ اتنا اہم اور اتنا عظیم الشان ہے کہ اگر ہزاروں سال تک اتقیاء، صلحاء اور علماء ایک بہت بڑی تعداد میں اس کا بوجھ اٹھانے کے لیے اپنے کندھے اس کے نیچے نہیں رکھیں گے تو یہ کام پوری طرح سرانجام نہیں دیا جا سکے گا۔اگر چند آدمی سلسلہ کی خدمت بجالانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں تو یہ کام مُید نہیں ہوگا اور ہماری جماعت بھی ایک انجمن بن کر رہ جائے گی۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلوں کے کام انجمنوں کے ساتھ نہیں چلتے بلکہ خلفاء اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے اتقیاء، صلحاء اور علماء کے ساتھ چلتے ہیں۔وہ کام ایسی جماعت کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں جو قیامت تک چلتی چلی جاتی ہے۔اور اُس کے ہر فرد کے اندر نہ صرف یہ آگ لگی ہوئی ہوتی ہے کہ اُس نے خود دین کی خدمت کرنی ہے بلکہ وہ مزید خدمت کرنے والے لوگ تیار کرتا ہے۔ہمارے واقفین کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح ہر چندہ دینے والے کے لیے صرف خود چندہ دینا کافی نہیں بلکہ مزید چندے دینے والے تیار کرنے بھی ضروری ہیں اسی طرح ہر ایک واقف زندگی کے لیے مزید واقف زندگی تیار کرنے ضروری ہیں۔اگر ہم ایسا کر سکیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اشاعت اسلام کا یہ اہم کام قیامت تک جاری رہ سکتا ہے۔پھر یہ ضروری ہے کہ ان میں سے ہر ایک صلحاء اور اتقیاء کا طریق اختیار کرے اور دعاؤں میں لگ جائے۔اور نہ صرف خود دعاؤں کی عادت ڈالے بلکہ یہ احساس دوسروں کے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔آج وہ لوگ بہت کم ہیں جنہیں دعائیں کرنے کی عادت ہے۔ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فردا ایسا ہو جو راتوں کو جاگے اور خدا تعالیٰ کے آگے سجدہ میں گر کر روئے اور سلسلہ کے لئے دعا ئیں کرے۔اور دن کے وقت استغفار اور ذکر الہی کرے۔اور یہ عادت اس حد تک