خطبات محمود (جلد 36) — Page 150
خطبات محمود جلد نمبر 36 150 $1955 مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں دریا پر گیا۔بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی جو بچپن میں میرے استا در ہے ہیں اور کچھ اور دوست میرے ساتھ کشتی میں سوار تھے ، ناصر احمد بھی میرے ساتھ تھا۔جب ہم کشتی میں بیٹھے دریا کی سیر کر رہے تھے تو ناصر احمد نے اپنے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان! اگر اس وقت ہمارے پاس مچھلی بھی ہوتی تو بڑا مزا آتا۔میں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ پانیوں پر خواجہ خضر کی حکومت ہے۔اگر خواجہ خضر کوئی مچھلی ہماری طرف پھینک دیں تو تمہاری یہ خواہش پوری ہوسکتی ہے۔جب میں نے یہ فقرہ کہا تو بھائی جی جھنجھلا کر کہنے لگے کہ آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔اس سے بچے کی عقل ماری جائے گی۔میں نے کہا ہمارے خدا میں تو سب طاقتیں ہیں وہ چاہے تو ابھی مچھلی بھجوا دے۔میں نے یہ بات ابھی ختم ہی کی تھی کہ یکدم پانی کی ایک لہر اٹھی اور ایک بڑی مچھلی کو ذکر ہماری کشتی میں آگری۔میں نے کہا دیکھ لیجئے خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت نمائی کر دی۔اور ہمارے دل میں جو خواہش پیدا ہوئی تھی وہ اُس نے پوری کر دی۔خواجہ خضر بے شک وفات پاچکے ہوں مگر ہمارا خدا جو ہمارا خالق اور مالک ہے وہ تو زندہ ہے اور وہ ہمارے جذبات کو جانتا ہے۔اُس نے اِس خواہش کو دیکھا اور میری بات کو پورا کر دیا۔تو انسان کی نیت اگر صادق ہو اور اُسے خدا تعالیٰ پر کامل یقین ہو تو ایسی غیر معمولی باتیں بھی رونما ہو جاتی ہیں جن سے انسان کو نہایت ہی تعجب ہوتا ہے۔میں نے کئی دفعہ ذکر کیا ہے کہ ایک دفعہ بڑی تپش کے بعد بارش آئی۔جس کمرہ میں میں رہتا تھا اُس کی کھڑکی میں نے کھولی اور بارش کا نظارہ دیکھنے لگا۔چونکہ بڑی دیر کے بعد بارش آئی تھی اس لیے مجھے اُس بارش کا بڑا مزا آیا۔مگر اُس روز مجھے پیچش اور مروڑ کی شکایت تھی۔میں ابھی بارش کا نظارہ دیکھ ہی رہا تھا کہ میرے پیٹ میں زور سے مروڑ اٹھا۔اب میرا دل بھی نہ چاہے کہ میں بارش کا نظارہ چھوڑ کر جاؤں اور کھڑا بھی نہ رہ سکوں۔چونکہ وہ ہلکی بارش تھی جو بعض دفعہ تھوڑی دیر ہو کر بند ہو جاتی ہے اس لیے میں ڈروں کہ اگر میں گیا تو بارش بند ہو جائے گی مگر اُس وقت کھڑے رہنے کی بھی طاقت نہیں تھی۔آخر میں جب جانے لگا تو بے ساختہ میرے منہ سے نکل گیا کہ خدایا ! میں تو اب کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔میں اب پاخانے جاتا ہوں تو ایسا انتظام فرما کہ خواہ درمیانی عرصہ میں یہ بارش بند ہو جائے جب میں واپس لوٹوں تو پھر بارش شروع ہو جائے۔