خطبات محمود (جلد 36) — Page 149
خطبات محمود جلد نمبر 36 149 $1955 پھر اگر رسول کریم ی ہے کے زمانہ کولو تو آپ کی وفات پر تو اب ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔شمسی لحاظ سے آپ کی ہجرت پر 1334 اور آپ کی وفات پر 1324 سال گزر چکے ہیں۔پس آپ کے صحابہ میں سے ہونے کا کسی شخص کے لیے کوئی امکان ہی نہیں۔کیونکہ 1334 سال دنیا میں کسی انسان کی عمر نہیں ہو سکتی۔صرف ایک مثال حضرت مسیح ناصری کی پائی جاتی تھی جن کو لوگوں نے آسمان پر زندہ بٹھا رکھا تھا۔اور اگر آج وہ آسمان سے اتر آتے تو ان کی عمر 1988 سال ہوتی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے اُن کی بھی وفات ثابت کر دی اور اس طرح اُن کے واپس آنے کا دروازہ آپ نے بند کر دیا۔گویا صرف ایک مثال اتنی بڑی عمر کی پائی جاتی تھی وہ بھی غلط ہوگئی۔یوں لوگوں نے بعض اور انبیاء کی بھی بڑی عمریں بتائی ہیں اور اس بارہ میں انہوں نے قرآن کریم کی بعض آیتوں سے بھی استدلال کیا ہے جو صحیح نہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ حضرت نوح کی ایک ہزار سال عمر تھی۔اسی طرح خواجہ خضر کے متعلق مشہور ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور پانیوں پر اُن کی حکومت ہے۔مگر ظاہر ہے کہ یہ صرف قصے ہی ہیں۔گوایمان کے ساتھ مل کر بعض دفعہ ایسے قصے بھی زندہ ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے قادیان میں جلسہ سالانہ کے بعد میں ہمیشہ سیر کے لیے دریا پر چلا جایا کرتا تھا جس کے نتیجہ میں قریباً سارا سال میری صحت اچھی رہتی۔ربوہ میں صحت کی خرابی کی بڑی وجہ یہی ہوئی کہ یہاں کوئی جگہ ایسی نہیں تھی جہاں میں تبدیلی آب و ہوا کے لیے جاسکتا۔عجیب بات یہ ہے کہ اس بیماری سے صرف چند دن پہلے ایک زمیندار دوست نے مجھے ایک خط لکھا جسے پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ اُس نے کتنی سچی بات لکھی ہے۔اُس نے لکھا کہ قادیان میں جلسہ سالانہ کے بعد آپ ہمیشہ دریا پر چلے جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ کی صحت اچھی رہتی۔مگر اب آپ کبھی باہر نہیں گئے اور میں ہر سال دیکھتا ہوں کہ آپ کی صحت جلسہ سالانہ کے بعد ہی بگڑتی ہے۔اس کا آپ کو فکر کرنا چاہیے۔اس خط کے چند دن بعد ہی مجھ پر فالج کا حملہ ہو گیا اور مجھے یہ خیال آیا کہ یہ بات ایک ان پڑھ کو سو بھی مگر ڈاکٹروں کو نہ سُوجھی۔اگر ڈاکٹر میری صحت کی بحالی کے لیے تبدیلی آب و ہوا پر اصرار کرتے تو شاید اس مرض کا حملہ نہ ہوتا۔بہر حال میں نے بتایا ہے کہ ایمان کے ساتھ مل کر ایسے قصے بھی بعض دفعہ زندہ ہو جایا کرتے ہیں۔