خطبات محمود (جلد 36) — Page 5
$1955 5 خطبات محمود جلد نمبر 36 تیسری رپورٹ میں مبارک احمد ، ناصر احمد ، بشیر احمد کے نام آجاتے ہیں۔اور چوتھی رپورٹ میں قدرت اللہ شہاب اللہ، اور بقا ء اللہ کے نام آجاتے ہیں۔ناظر صاحب ابھی نئے ہیں لیکن میں نے ان سے کہا کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ پہلے تین شخص جنہیں ہمارے کوئی مبلغ ملے تھے وہ کہاں گئے ؟ وہ مرگئے ہیں یا گاؤں چھوڑ گئے ہیں کہ بعد میں ان کا ذکر ہی نہیں آتا۔اگر تم غور کرتے تو تم سمجھ جاتے کہ ان لوگوں سے ان کی اتفاقی ملاقات ہوئی تھی۔دوسری دفعہ چونکہ تین اور آدمی اتفاقا مل گئے اس لئے انہوں نے انکے نام دے دیئے۔بہر حال تم نے کبھی مبلغین سے پوچھا کہ تمہاری پہلی تبلیغ کہاں گئی ؟ آخر تم نے سال بھر کیا کام کیا ہے اگر تم انہیں پکڑتے تو لازمی طور پر یا یہ لوگ ختم ہو جاتے اور یا کام کرتے۔یہی حال بیرونی انجمنوں کا ہے۔ان میں بھی ہر سال نئے ارادے اور نئے عزم ہوتے ہیں۔نئے وعدے ہوتے ہیں۔لیکن ان کے نتائج بہت کم نکلتے ہیں۔اب تک ہماری ساری کمائی ہمارے بیرونی مشن ، چند تعلیمی ادارے اور چندے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کالج اور سکول دوسرے لوگوں کے پاس بھی ہیں۔لیکن ہمارے پاس مبلغ ہیں، تبلیغی مشن ہیں جو اُن کے پاس نہیں۔پھر ہمارے لوگ چندہ بھی بڑی محنت سے دیتے ہیں۔اگر چہ جتنا چندہ اکٹھا کیا جاسکتا ہے ہمارا موجودہ چندہ اس کا قریباً نصف ہے۔لیکن دوسرے لوگ اتنا چندہ بھی نہیں دیتے۔ویسے کام تو ہمارے ذمہ ہزاروں ہیں۔ہم نے صداقت کو دنیا میں قائم کرنا ہے۔نہ کی صرف ہم نے اپنے آپ کو سچ کا عادی بنانا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی سچ کی عادت ڈالنی ہے۔ہم نے خود اپنے آپ کو بھی محنتی بنانا ہے اور دوسروں میں بھی محنت کی عادت پیدا کرنی ہے۔ہم نے خود بھی عالم بننا ہے اور دوسروں کو بھی عالم بنانا ہے۔خود بھی منصف بننا ہے اور دوسروں کے اندر بھی عدل اور انصاف کی عادت پیدا کرنی ہے۔اب دیکھ لو کتنے اخلاق ہیں جو ہم نے اپنے اندر اور دوسرے لوگوں کے اندر پیدا کرنے ہیں۔خدا تعالیٰ کی ایک ایک صفت کے مقابلہ میں بعض دفعہ دس دس ہیں ہیں پچاس پچاس اخلاق آ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی 99 صفات گنی جاتی ہیں۔اگر ایک ایک صفت کے مقابلہ میں دس دس ہیں ہیں اخلاق ہوں تو ہزاروں اخلاق بن جاتے ہیں۔