خطبات محمود (جلد 36) — Page 131
$1955 131 خطبات محمود جلد نمبر 36 اسے اٹھا کر لے گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ ہماری دعوت تھی ، اس میں تم بغیر ہماری اجازت کے کیوں آئے ؟ ہم ابھی پولیس کو اطلاع دیتے ہیں۔دوسرے دن وہاں کے ایک نو مسلم مجھ سے معافی مانگنے آئے۔اور انہوں نے کہا کہ اس شخص کی وجہ سے آپ جرمن قوم کو بُرا نہ سمجھ لیں۔یہ ایشیائی تھا اس لیے اُس نے یہ غلطی کی ہے۔اُس وقت میری بھی ایشیائی رگ بھڑک اٹھی اور میں نے کہا کہ بُرے آدمی ایشیا میں ہی نہیں ہوتے یورپ میں بھی موجود ہیں۔وہ کہنے لگے بے شک موجود ہیں۔میں صرف یہ کہنے آیا تھا کہ آپ کے دل میں ہمارے متعلق نا راضگی پیدا نہ ہو ، ہم آپ کو اپنا معزز مہمان سمجھتے ہیں۔اور یہ شخص جس نے غلطی کی ایشیا ئی تھا۔میں نے کہا ایشیائی تو تھا مگر اُس کی اپنی حرکات اسلامی تعلیم کے خلاف تھیں۔مودودی لوگ ہم کو مسلمان نہیں سمجھتے مگر اس نے خود قرآن کے خلاف عمل کیا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اُن کے مخالف بحث کر رہے تھے کہ انہوں نے ستاروں میں دیکھا اور کہا کہ میں بیمار ہوں۔اور یہاں مجھے دس ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ میں بیمار ہوں۔مگر ابراہیم کے مخالف تو اتنے شریف تھے کہ اٹھ کر چلے گئے۔اور اس شخص کو ڈاکٹری گواہی بھی بتائی گئی مگر پھر بھی اس نے کہا کہ میں مسئلہ حل کئے بغیر واپس نہیں جاسکتا۔پس اس شخص نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ مسلمان نہیں۔ورنہ قرآن تو کہتا ہے فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُوْمِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ 4 - ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں بیمار ہوں اور وہ لوگ چلے گئے۔اور یہاں دس ڈاکٹر ا علان کرتے ہیں کہ آپ کو زیادہ بولنا نہیں چاہیے اور پھر بھی وہ بحث کرتا چلا گیا۔پس اس نے اپنے دعوی اسلام کے باوجود خود اس کے خلاف عمل کیا۔ایسے شخص کے کسی فعل کی وجہ سے میں آپ پر کس طرح ناراض ہوسکتا ہوں۔چونکہ جس جگہ میں ٹھہرا ہوا ہوں اُس کے پاس اور بھی مکان بن رہے ہیں جن کی وجہ سے شور رہتا ہے اس لیے آج صبح سے میرے دماغ پر اُس کا اثر ہے اور زیادہ بولنا میرے لیے مشکل ہے۔میں اسی پر اپنے خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔صرف اس قدر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ شروع میں میں نماز میں زیادہ بھول جایا کرتا تھا مگر آہستہ آہستہ یہ نقص جاتا رہا۔لندن میں بھی یادداشت ٹھیک رہی۔