خطبات محمود (جلد 36) — Page 130
خطبات محمود جلد نمبر 36 130 $1955 ڈسمنڈ شا3 Desmond Shaw) انگلستان کے بہترین مصنفوں میں سے ہے۔کم سے کم وہ خود اپنے آپ کو ریچ۔جی ویلز سے بھی بڑا سمجھتا ہے۔وہ مجھے ملا تو کہنے لگا بڑا ظلم یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ امن پھیلانے والا جو نبی آیا تھا اُسی کو لڑائی کرنے والا نبی کہا جاتا ہے اور پادری اس پر اعتراض کرتے ہیں۔میں نے کہا تمہیں یہ نظر نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم ہم لوگ ہی یورپ میں پھیلا رہے ہیں اور ہمیں ہی مسلمانوں کے نزدیک واجب القتل سمجھا جاتا ہے؟ وہ کہنے لگا مجھے ایک معزز مسلمان ملا تھا۔میں نے اُس سے یہی کہا کہ اسلام پھیلانے والے تو یہی لوگ ہیں اور ہم تک اگر اسلام پہنچا ہے تو انہی کے ذریعہ۔تم ان لوگوں کی مخالفت کر کے اپنا بیڑہ کیوں غرق کر رہے ہو؟ اُن پر ہماری اسلامی خدمات کا اتنا گہرا اثر ہے کہ یہی ڈسمنڈ شا دعوت استقبالیہ میں مجھے ملا اور چلا گیا۔پھر ظفر اللہ خان سے ملا اور کہنے لگا کہ میں حضرت صاحب سے ابھی نہیں ملا اور یہ کہہ کر وہ پھر میرے ملنے کے لیے آ گیا۔اسی طرح تین چار دفعہ ہوا۔وہ بار بار میرے ملنے کے لیے آجاتا۔آج جب میں اٹھا تو اُس وقت بھی وہ میرے سامنے والی میز پر بیٹھا ہوا تھا۔وہ بار بار یہی کہتا کہ میں بچپن سے محمد رسول اللہ اللہ کی عظمت کا قائل ہوں اور سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا نبی ہوا ہے اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے میں ہی برکت ہے۔غرض یورپ کا مزاج اب اسلام کی طرف آرہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی ان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو " پدرم سلطان بود کے مطابق سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہیں اور یہ ایشائی چھوٹے ہیں۔لیکن ان کے درجہ کے طبقہ میں اب وہ لوگ بھی پیدا ہور ہے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو نہ ماننا صلى الله بیوقوفی ہے۔آپ دنیا کی طرف ایک نور اور رحمت لائے ہیں اور آپ کی پیروی میں ہی امن اور سلامتی ہے۔مجھ سے ہیمبرگ میں ایک مودودی طرز کا آدمی ملا۔وہ اپنے آپ کو عراقی کہتا تھا لیکن لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک معجون مرکب کی قسم کا آدمی ہے۔کبھی یہ اپنے آپ کو بہائی کہتا ہے اور کبھی مودودی۔اس نے ہمیں دھوکا دیا۔جب اُسے بتایا گیا کہ میں بیماری کی وجہ سے مل نہیں سکتا تو وہ کہنے لگا کہ میں صرف مصافحہ کرنا چاہتا ہوں مگر پھر اُس نے بحث شروع کر دی۔آخر جرمن لوگ