خطبات محمود (جلد 36) — Page 127
$1955 127 خطبات محمود جلد نمبر 36 جرمن لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں ، آپ جلدی کیوں نہیں کرتے ؟ وہاں اپنا تبلیغی مشن کھولیں۔ہمارا ملک اس وقت روحانی لحاظ سے پیاسا ہے مگر اسے کوئی رستہ نظر نہیں آتا۔آپ وہاں جائیں اور اپنی باتیں پہنچائیں۔ہمارا ملک آپ کی باتیں ماننے کے لیے تیار ہے۔غرض لوگوں کے اندر سچائی کو قبول کرنے کا مادہ پایا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دوست قربانی کریں اور اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔جرمنی کے ایک شہر کی جماعت نے کہا کہ اگر ہمیں مبلغ مل جائے اور مسجد کے لیے زمین خرید کر دے دی جائے تو ہم امید کرتے ہیں کہ اگلے چھ ماہ میں کئی سو احمدی مسلمان اس شہر میں پیدا ہو جائیں گے۔اور ایک دو سال میں ہزار دو ہزار ہو جائیں گے۔وہاں ایک احمدی عرب موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ فی الحال اس کو یہاں مقرر کر دیا جائے۔چنانچہ میں نے اُس کو وہاں مقرر کر دیا۔پھر میں نے پوچھا کہ زمین کے لیے کتنی رقم کی ضرورت ہے؟ میں اپنے ملک پر قیاس کر کے سمجھتا تھا کہ وہ پچاس ساٹھ ہزار روپیہ مانگیں گے مگر انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف دو ہزار مارک دے دیں۔میں نے کہا کہ یہ دو ہزار مارک تو میں اپنی جیب سے بھی دے دوں گا۔تم اس کے متعلق تسلی رکھو۔مجھے صرف یہ بتا دو کہ عمارت کے لیے کتنا رو پیدلو گے؟ ہ فوراً بول اٹھے کہ عمارت کے لیے ہم آپ سے ایک پیسہ بھی نہیں لیں گے۔سارا کام ہم اپنے ہاتھ سے کریں گے۔آپ ہمیں صرف دو ہزار مارک دے دیں تا کہ ہم زمین خرید لیں۔اس کے بعد اس پر عمارت ہم خود بنالیں گے۔یہ چیز ایسی ہے جو سارے جرمنی میں پائی جاتی ہے۔قاضی فیملی کے ایک نو جوان جو قاضی محمد اسلم صاحب کے بھتیجے ہیں وہاں تعلیم کے لیے گئے ہوئے ہیں۔میں نے اُن کے پاس جرمن قوم کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ بڑے محنتی ہیں۔وہ کہنے لگے میں ابھی جرمنی سے آرہا ہوں۔وہاں میں جس مکان میں رہتا تھا اُس کی کھڑکی سے میں روزانہ یہ نظارہ دیکھتا تھا کہ سامنے ایک بلڈنگ گری پڑی ہے وہ اُسے بنانے کے لیے اکٹھے ہو جاتے اور دوسرے دن شام کو میں دیکھتا تو وہ چھتوں تک پہنچی ہوئی ہوتی۔اور یہ سارا کام محلہ والے بغیر ایک پیسہ مزدوری لئے کرتے تھے۔میں نے خود ہیمبرگ دیکھا۔وہاں چودہ لاکھ کی آبادی ہے اور امیرا نہ ٹھاٹھ کے ساتھ رہنے والے لوگ ہیں۔مگر ایک عمارت بھی مجھے ٹوٹی ہوئی نظر نہیں آئی۔اس