خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 126

$1955 126 خطبات محمود جلد نمبر 36 جو اُن میں پیدا ہوا ہے۔پہلے کثرت ازدواج پر اعتراض کیا جاتا تھا۔اور اب کہتے ہیں کہ یہی اسلام کی بڑی خوبی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ شادیوں کی تعلیم دیتا ہے۔پہلے اس پر اعتراض تھا کہ پردہ کیوں کیا صلى الله جاتا ہے اور اب اس پر اعتراض ہے کہ ساری عمر نہیں بلکہ ایک منٹ کے لیے بھی محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا پردہ کیوں اُتارا۔غرض وہی چیزیں جو پہلے اعتراض کا موجب کبھی جاتی تھی اب خوبی کا موجب سمجھی جانے لگی ہیں اور ان میں ایسے لوگ پیدا ہور ہے ہیں جو ان کی تائید کرتے ہیں۔جرمنی میں جب گورنمنٹ نے مجھے ریسیپشن (Reception) دیا تو ہمارے تمام ساتھیوں کے ساتھ ایک ایک وزیر بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔اُن کے ملک میں یہ دستور ہے کہ جو کام سب سے زیادہ اہم ہو وہ جس وزیر کے سپرد ہو اُسی کو پرائم منسٹر سمجھا جاتا ہے۔چونکہ یہ ریسیپشن (Reception) میری خاطر تھا اس لئے انہوں نے جس وزیر کو میرے ساتھ بٹھا یا وہ کی وزیر تعمیرات تھا۔پہلے تو مجھے اس پر تعجب ہوا مگر پھر انہوں نے بتایا کہ چونکہ آج کل ہم سب سے زیادہ زور تعمیر پر خرچ کر رہے ہیں اور ہمارے ملک کی طاقت کا بیشتر حصہ تعمیرات پر صرف ہورہا ہے اس لیے اب وزیر تعمیرات ہی ہم میں سب سے بڑا وز یر سمجھا جاتا ہے۔وہ باتوں باتوں میں پوچھنے لگے کہ جماعت کی کتنی تعداد ہے اور آپ کے کتنے مشن اس وقت قائم ہیں؟ جب انہیں بتایا گیا کہ ہماری اتنی تعداد ہے اور اس قدر مشن ہیں تو انہوں نے تعجب کے ساتھ کہا کہ جماعت اس سے زیادہ مشن کیوں نہیں کھولتی ؟ میں نے انہیں بتایا کہ اب ہمارا ارادہ ہے کہ اپنے مشنوں کو بڑھائیں اور اس بارہ میں جلد کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔غرض جرمنی میں اسلام کی اشاعت کا ایک وسیع میدان پایا جاتا ہے اور اُن میں اسلام کی طرف رغبت اور شوق کا احساس نظر آتا ہے۔سپین کا مبلغ جب تبلیغی کا نفرنس میں شامل ہونے کے لیے لندن آیا تو اُس نے بتایا کے سپین سے آتے وقت جرمنی کے ایمبیسیڈر (Ambassader) سے میں ملنے گیا تھا۔وہ جرمن بادشاہ ول مسیلم (Wilhelm) کے خاندان میں سے ہے۔میں نے اُسے بتایا کہ ہماری جماعت کے ہیڈ انگلستان آئے ہوئے ہیں اور وہاں ایک تبلیغی کا نفرنس منعقد ہورہی ہے جس میں شمولیت کے لیے میں جارہا ہوں۔وہ کہنے لگا کہ میرا بھی ایک پیغام اُن کے نام لیتے جاؤ۔میری طرف سے انہیں کہنا کہ