خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 107

$1955 107 خطبات محمود جلد نمبر 36 یہاں یہ ضمیر شان ہے اور اس کے معنے ہیں حق یہ ہے، بیچ یہ ہے، اصل کی بات یہ ہے۔پس اس کے معنے ہوئے اصل پکی بات یہ ہے کہ اللہ احد ہے۔دو تین الفاظ عربی میں ایک کے مفہوم کو ادا کی کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ایک احمد ہے، ایک واحد ہے اور ایک منفرد۔یہاں احد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔لغت کی رو سے اس کا اصل احدیت ہے اور اس کے معنے ہیں اپنی ذات میں ایک ہونا۔انگریزی میں اس کو کہیں گے۔"Oneness"۔اور واحد کے معنے ہوں گے "One"۔اور اللہ تعالیٰ کے احد ہونے کے معنے ہیں وہ ہستی جو اپنی ذات میں ایک اور غیر منقسم ہو۔واحد کے بعد ثانی ہوتا ہے۔اس طرح ایک کے بعد دو تین چار ہم کہہ سکتے ہیں۔احد کے بعد دو تین نہیں کہتے بلکہ یہ دو تین کو بالکل نظروں سے اڑا کر پھر بولا جاتا ہے۔اس کا اردو میں آسان ترجمہ اکیلا ہے۔اکیلا دو تین نہیں کہتے۔بلکہ ایک دو تین کہتے ہیں۔واحد کے معنے ایک کے ہیں۔مگر جب احمد کہا جائے تو دو کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔واحد میں ذہن دوسرے کی طرف جاسکتا ہے۔لیکن احد میں ذہن دوسرے کی طرف جاہی نہیں سکتا۔پس اصل معنے ہوں گے اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا اور غیر منقسم ہے۔اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات ہیں اور یہ تمام صفات اُس کی ذات کا حصہ ہیں اور ان میں سے کوئی بھی الگ وجود نہیں رکھتی۔لیکن عیسائی کہتے ہیں خدا بولتا ہے اور خدا بولا اور اُس سے مسیح پیدا ہوا۔جیسے بائیل میں آیا ہے ابتدا میں کلام 4 اور کلام سے ہی آگے سب کچھ بنا۔گویا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام اور اس کی ذات دونوں الگ الگ وجود درکھتی ہیں۔وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ 5 میں احد کے معنے قرینے کی وجہ سے " کوئی" کے ہیں اور مذکور قرینے کی وجہ سے اکیلے کے معنے نہیں کئے جاسکتے۔پس اس صورت میں اس آیت کے معنے ہوں گے کہ اس کا کوئی بھی ہم صفت نہیں نہ یہ کہ اس کا اکیلا ہم صفت نہیں۔اللہ تعالیٰ اکیلا ہے اپنی ذات میں اور اس کی صفات اُس سے الگ کوئی وجود نہیں رکھتیں۔اور کوئی اس کا کفو نہیں۔اب دیکھو قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ سورة فاتحہ کی تفسیر ہی ہے۔کیونکہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ 6 تعریف کی مستحق وہی ذات ہے جو سب جہانوں کا رب ہو۔پس جو ساری کائنات کا رب ہوگا وہ نہ کسی کا بیٹا ہوگا اور نہ باپ بلکہ وہ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ 7 ہوگا۔