خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 103

$1955 103 خطبات محمود جلد نمبر 36 کہ یہ خیال مجھے اُس وقت بھی آیا تھا کہ کھیتی باڑی میں بھی جو کچھ ہوتا ہے وہ انسانوں کے لیے بھی ہے اور جانوروں کے لیے بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ بیل ہل چلاتا ہے اور بظا ہر کھیتی باڑی کے سلسلہ میں انسان سے زیادہ کام کرتا ہے لیکن اُس کا پیٹ انسان کے پیٹ سے بڑا ہے۔اس لئے جب غلہ پیدا ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ اس میں اُس کا حصہ زیادہ رکھتا ہے۔چنانچہ دانوں کی نسبت پھو سا تقریباً دو گنا ہوتا ہے۔پس اسی طرح اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا خیال رکھتا ہے اور اس کی ضروریات مہیا کرتا ہے۔اس آخری سورۃ میں جو قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کہا گیا ہے اس میں رَبِّ النَّاسِ کا مفہوم یہ ہے کہ ساری کائنات کے مضمون کو انسانوں کی طرف پھیر دیا جائے۔یعنی ہم اس کی پناہ مانگتے ہیں جو سارے انسانوں کا خدا ہے۔یہاں یہ نہیں کہا کہ کالوں یا گوروں کا خدا یا اس ملک کا کی یا اُس ملک کا خدا بلکہ یہ کہا ہے کہ وہ تمام انسانوں کا خدا ہے۔ان الفاظ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب نیشنلزم کی طرف توجہ بڑھ جائے گی۔اس لیے یہاں ایسے خدا کی پناہ مانگی گئی جو سب انسانوں کا خدا ہے نہ کہ کسی ایک نسل کا۔پس یہ ایک رنگ میں دعا ہے کہ اے خدا ! جب کوئی ایک قوم دوسری قوم پر حاکم ہو جائے اور ظلم کرنے لگے تو تو چونکہ سب کا خدا ہے صرف اس قوم کا خدا نہیں اس لیے اسے اس حکومت سے محروم کر دے یا اس کی اصلاح کر دے۔یہی اشارہ سورۃ فاتحہ میں مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ 5 کے الفاظ میں بھی پایا جاتا ہے۔سورۃ فاتحہ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ نہ تو میں مغضوب میں سے ہو جاؤں اور نہ ہی ضالین میں سے 6 یہاں بھی قومی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی قوم اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اُس کی اگلی نسل ٹھیک نہ ہو جائے۔قوموں کی زندگی تو سینکڑوں ہزاروں سال تک کی ہوتی ہے۔پھر جب ہم ایک فرد کی زندگی کو جو زیادہ سے زیادہ ستر اسی سال یا سوسال کی ہوتی ہے بچانے کے لیے اتنی جد و جہد کرتے ہیں تو قومی زندگی کو بچانے کے لیے اس سے کہیں زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔سورۃ الناس کی آیت مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ Z میں اس بات کی دعا کی گئی ہے کہ آئندہ نسلیں خراب نہ ہو جائیں۔ان کے دلوں میں وساوس نہ پیدا ہوں۔پس مومن کہتا ہے کہ اے خدا ! میری تو زندگی اچھی گزرگئی ہے لیکن میں اُن کے لیے بھی