خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 102

$1955 102 خطبات محمود جلد نمبر 36 تمہید ہے اور آخری تین سورتیں سارے قرآن کریم کے مضامین کا خلاصہ ہیں۔یوں تو یہ مضمون لمبا ہے لیکن اصولی طور پر میں اس مضمون کو اختصار کے ساتھ بیان کر دیتا ہوں۔ان تینوں سورتوں میں سے آخری سورۃ خلاصہ درخلاصہ کا کام دیتی ہے۔سورۃ فاتحہ میں پہلی آیت اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ 1 ہے اس میں خدائے واحد کی حمد اس لئے بیان کی گئی ہے کہ وہ رب العالمین ہے یعنی سارے جہانوں کا رب ہے۔اس میں خدا تعالیٰ کی ربوبیت سارے جہانوں کے لیے بیان کی گئی ہے۔اسی طرح اس آخری سورۃ کی پہلی آیت قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ 2 ہے۔اس میں بھی وہی اشارہ پایا جاتا ہے اور اُس رب کی پناہ طلب کی گئی ہے جو تمام بنی نوع کا رب ہے۔کسی ایک قوم یا ملک یا نسل کے رب کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ ایسے رب کی طرف اشارہ ہے جو سب انسانوں کا رب ہے۔اب اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں جس قد رفساد اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں وہ تمام کے تمام انسان کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں۔اس لیے آخری سورۃ میں عَالَمِینَ کی بجائے اَلنَّاس رکھ دیا گیا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا تعلق تو عالَمِینَ یعنی تمام جہانوں سے ہے۔لیکن دنیا میں فتنہ وفسا دانسانوں سے پیدا ہوتے ہیں۔پھر یہاں فتنہ وفساد سے بچنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ طوفانوں اور آندھیوں سے اور فتنہ وفساد سے انسان کے لیے مفید صورتیں پیدا کر دے۔اور اکثر یہ مفید صورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔چہ بعض اوقات طوفان اور آندھیاں عذاب کی صورت بھی بن جاتی ہیں لیکن اگر انسان تو بہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو یہ مفید صورتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ساری چیزیں انسان ہی کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے انسان ہی کے لیے ہے 3۔پھر سورۃ فاتحہ میں اَلْعَالَمِينَ میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا سلوک سب مخلوقات سے ایک جیسا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں کھیتی باڑی کے ذکر میں بھی بتایا گیا ہے انسانوں کے لیے بھی ہے اور حیوانوں کے لیے بھی 4۔میں چھوٹا سا تھا تو اُس وقت بھی مجھے قرآن کریم کا درس دینے سے محبت تھی۔مجھے یاد ہے