خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 85

$1955 85 خطبات محمود جلد نمبر 36 قرآن کریم کی رو سے رحیمیت کے معنی پنشن سے بہت زیادہ ہیں کیونکہ پنشن تنخواہ سے آدھی ہوتی ہے۔بعض دفعہ وہ گزارہ کے لئے کافی نہیں ہوتی۔یا پھر بڑھاپے میں جو امداد دی جاتی ہے وہ بھی گزارہ کے لئے کافی نہیں ہوتی کہ انسان آرام سے بڑھاپے میں گزارہ کر سکے۔صرف اتنا ہی ہوتا ہے جو اُس کو مانتا ہے۔مگر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کریں گے یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کریں گے انہیں جنت ملے گی 4 اور جنت کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ 5 نیز فرماتا ہے وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدْعُونَ 6 کچھ ان کے دل میں خواہش پیدا ہوگی یا زبان پر آئے گی وہ انہیں مل جائے گی۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے لیکن انسان اُس کو زبان پر لانے کی جرات نہیں کرتا۔وہ کی سمجھتا ہے کہ یہ بہت بُرا مطالبہ ہے۔تو با وجود دل میں خواہش ہونے کے چونکہ وہ بیان نہیں کرتا اس لئے وہ پوری نہیں ہوتی۔اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان منہ سے ایک بات کہتا ہے لیکن دل میں جانتا ہے کہ یہ میرا حق نہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں معنے بیان فرما دیے کہ جنت میں لَهُمُ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ بھی ہوگا اور وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدْعُونَ بھی۔یعنی جو دل میں خواہش ہوگی وہ تو بھی پوری ہو جائے گی اور جو منہ سے بیان ہوگی وہ بھی پوری ہو جائے گی۔پھر ہوسکتا ہے کہ (جنت کی ضروریات کا علم انسان کو یہاں تو نہیں ہوتا ) انسان وہاں ایسی چیزیں مانگے جو اچھی ہوں اور اس کو مل جائیں گی لیکن وہ نا واقفی میں یہ نہ سمجھتا ہو کہ وہ اسکے بیوی بچوں کے لئے بھی کافی ہوں گی یا نہیں۔تو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کوئی مومن جس درجہ کا مستحق ہوگا اُس کے بیوی بچے اور اولاد اور ساتھی بھی وہیں رکھے جائیں گے 7۔گویا نہ صرف اُس کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے گا کہ اُس کی ضرورتیں پوری کی جائیں گی بلکہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے دوست رشتہ داروں کی ضرورتیں بھی پوری کی جائیں گی۔اب دیکھ لو پینشن کا اس کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں۔پھر فرماتا ہے کہ جنت ہمیشہ رہنے والی ہے اور پنشن میں تو گورنمنٹ پراویڈنٹ فنڈ کا اندازہ کرتی ہے۔پھر پنشن مقرر کرتی ہے کہ اگر ہم اس کو پراویڈنٹ فنڈ دیتے تو عام طور پر اتنی عمر میں لوگ مر جایا کرتے ہیں۔تو اس کا حساب لگالیا اور اس کا سود لگا کر پیسے دے دیئے۔مگر