خطبات محمود (جلد 36) — Page 61
1955ء 61 خطبات محمود جلد نمبر 36 ہی کرایہ دے کر بھیجا تھا۔ پھر دو چار سال جب تک وہاں جماعت قائم نہیں ہوئی تھی سارا خرچ پاکستان کی جماعت نے دیا تھا ۔ اب بھی اکثر جگہوں پر پاکستان ہی کی جماعت خرچ کرتی ہے ۔ مگر بیرونی جماعتیں ایک ایک پیسہ پر بحث شروع کر دیتی ہیں ۔ اور کہنے لگ جاتی ہیں کہ ہما را چندہ باہر کیوں جائے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تبلیغ کا ذمہ دار صرف پاکستان ہے۔ باقی لوگوں پر تبلیغ کی ذمہ داری نہیں ۔ امریکہ کی جماعت چاہتی ہے کہ امریکہ کا چندہ امریکہ میں ہی خرچ ہو۔ جاپان چاہتا ہے کہ اس کا چندہ جاپان میں ہی خرچ ہو۔ انڈو نیشیا چاہتا ہے کہ اُس کا چندہ انڈونیشیا میں ہی خرچ ہو۔ ملایا چاہتا ہے کہ اُس کا چندہ ملایا میں ہی خرچ ہو۔ عرب چاہتا ہے کہ اُس کا چندہ عرب میں ہی خرچ ہو۔ افریقہ چاہتا ہے کہ اُس کا چندہ افریقہ میں ہی خرچ ہو۔ باقی دنیا میں تبلیغ پر جو خرچ ہو وہ اکستان برداشت کرے۔ لیکن یہ احمقانہ خیال ہے۔ پس یہ مرض باہر کی جماعتوں میں پائی جاتی ہے ۔ اور جب یہ مرض باہر کی جماعتوں میں اس وقت بھی پائی جاتی ہے جب پاکستان کی جماعت نے اکثر حصہ بوجھ کا اٹھایا ہوا ہے تو جب مرکز میں ہی خرابی پیدا ہو جائے تو ہم انہیں کیا کہیں گے۔ جب ذمہ دار لوگ معمولی عقل کی بات بھی نہ کریں تو دوسروں سے کیا شکوہ ہے ۔ وہ امریکہ، جرمنی ، ہالینڈ اور دوسرے ممالک کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی اصلاح نہیں کر سکتے ۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں ۔” مثردہ باد اے مرگ عیسی آپ ہی بیمار ہے، یعنی اے موت ! تجھے مبارک ہو کہ عیسیٰ جو مر دے زندہ کیا کرتا تھا وہ آپ ہی بیمار ہے ۔ پس مرکز کے رہنے والوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔ انہیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور پھر اصلاح کرتے رہنا چاہیے۔ انہیں اپنی عقل تنظیم اور قربانی سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ محض اتفاقی طور پر ہی لیڈر بنے۔ ہے۔ نہیں بنے ۔ بلکہ خدا تعالیٰ نے انہیں لیڈر بنایا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کو اس ملک میں پیدا کیا تھا تو یہ دیکھ کر کیا تھا کہ ہم لوگوں میں قابلیت پائی جاتی ہے۔ اگر ہم اپنی قابلیت کو ظاہر نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ جھوٹا نہیں ہم خود جھوٹے ہیں ۔ اگر ہم اپنی قابلیت کو ظاہر نہیں کرتے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ہم اپنی طاقت کو ضائع کر رہے ہیں ۔ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا ۔ اُس نے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! میرے بھائی کو دست آرہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ ۔ چنانچہ وہ واپس گھر گیا اور اُس نے اپنے بھائی کو شہد پلایا۔لیکن دست اور وو