خطبات محمود (جلد 36) — Page 30
خطبات محمود جلد نمبر 36 30 1955ء ہمیں بدلے ہوئے حالات کے مطابق چلنا چاہیے ۔ یہ سب باتیں ٹرینینگ سے آسکتی ہیں۔ جب کوئی نو جوان مبلغین کلاس پاس کر کے کالج سے نکلتا ہے تو اُسے سمجھایا جائے کہ اس نے تبلیغ کے سلسلہ میں کس طرح مختلف رستے پالتے ہیں ۔ پس مرکز والوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کریں اور جماعت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اس کے مطابق حرکت کرے۔ اب بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں ۔ وعدوں کی میعاد ختم ہو نیوالی ہے ۔ ان چند دنوں کے گزر جانے کے بعد جماعت کے لوگ شرمندہ ہوں گے کہ ان کی مالی قربانی گزشتہ سال سے کمزور رہی ۔ جماعت بہر حال گزشتہ سال سے بڑھی ہے۔ اس کے کئی نوجوان جو پہلے ملازم نہیں تھے اس سال ملازم ہوئے ہیں یا کئی نوجوان جو پہلے بیکار تھے اس سال انہوں نے کوئی نہ کوئی کام شروع کیا ہے۔ اور اس طرح چندوں کی مقدار بڑھنی بھی ضروری ہے۔ اگر جماعت میں نئے داخل بھی ہونے والوں کو لیا جائے ، جماعت کے ایسے نوجوانوں کو لیا جائے ۔ جو پہلے ملازم نہیں تھے اس سال ملازم ہوئے ہیں یا پہلے بیکار تھے اب انہیں روز گار مل گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جماعت کے چندہ میں زیادتی نہ ہو۔ پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہر جماعت جلد سے جلد وعدوں کی فہرست مکمل کر کے دفتر میں بھجوائے ۔ یہ یادر ہے کہ وعدوں میں کچھ نہ کچھ زیادتی ضرور ہونی چاہیے تا کہ جماعت کا قدم آگے بڑھے، پیچھے نہ ہٹے۔ یہ فہرستیں جلد سے جلد مرکز میں بھیجوائی جائیں تا وہ اپنا ریکارڈ مکمل کر سکیں اور آئندہ سال کا بجٹ بنانے میں جو دقت پیش آ رہی ہے وہ دور ہو جائے ۔،، الفضل 3 فروری 1955ء) 1 : ڈھاک کے تین پات ( کہاوت) بے نتیجہ، لا حاصل، بے حقیقت ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 10 صفحہ 211 ۔ کراچی جنوری 1990 ء ) 2 سیرت ابن ہشام - جلد 3 صفحہ 326 - زیر عنوان امر الحديبة في آخر سنة ست و ذكر