خطبات محمود (جلد 36) — Page 24
خطبات محمود جلد نمبر 36 24 $1955 ے دو، وہ دے دو، کرتے ہیں۔اور بعض مبلغ ایسے ہوتے ہیں جو مرکز کو ڈراتے رہتے ہیں کہ ہمیں یہ دے دو، وہ ہمیں فلاں چیز بھیج دو اور اس طرح وہ سمجھتے ہیں کہ مرکز گھبراہٹ میں ان کے حسب منشا کام کر دے گا۔جو مبلغ نظم کے عادی ہوتے ہیں اور نظام سلسلہ کے پابند ہوتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ وہی مبلغ اپنے کام میں کامیاب ہوتے ہیں۔اور جن کو یہ اصرار ہوتا ہے کہ ان کی ہر بات کو مان لیا جائے میں نے دیکھا ہے کہ وہ سالہا سال تک ایک ملک میں رہ کر آ جاتے ہیں لیکن ڈھاک 1 کے کی وہی تین پات والا معاملہ ہوتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ تبلیغ کے نظام میں اس قسم کی مناسب تبدیلی کر دی جائے جس سے موجودہ خرچ میں ہی کام وسیع کیا جا سکے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ چندہ میں ہر سال زیادتی نہ ہو۔اس طرح تو ہمارا قدم رک جائے گا۔اور جماعت کی ترقی رک جائے گی۔گو ہماری کوشش ہوگی کہ بجٹ کو اس طور پر نہ بڑھایا جائے کہ وہ جماعت کی طاقت سے باہر ہو جائے۔لیکن اس تبدیلی میں کچھ دن لگیں گے۔اول تو یہ بات لازمی ہوگی کہ پہلے مشن کو قائم رکھا جائے اور اسے پہلے سے زیادہ مضبوط کیا جائے۔اور اس سے بہر حال اخراجات میں زیادتی ہوگی۔لیکن یہ ضرور دیکھا جائے گا کہ اخراجات میں پہلے کی رفتار سے زیادتی ہو۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک سو کی آمد ہوئی تو اگلے سال کے خرچ کا اندازہ - 175 یا -/200 تک ہو گیا۔لیکن اب ہماری یہ سکیم ہے کہ اخراجات بے شک بڑھیں لیکن یہ بڑھوتی اس طرح کی ہو کہ گزشتہ سال مثلاً آمد ایک سو ہے تو اگلے سال اخراجات کا اندازہ - 105 ہو جائے۔بڑھوتی بہر حال ہوگی۔پھر اس کے مقابلہ میں یقیناً ہماری آمد بھی زیادہ ہوگی۔اگر جماعت ہر سال بڑھتی رہے، اگر اس کی اقتصادی حالت ہر سال اچھی ہوتی رہے اور اگر جماعت کا زمیندار اور صناع پہلے کی نسبت زیادہ ہوشیار ہوتا جائے تو آمد بہر حال بڑھے گی۔اور اگر جماعت کے ہر سال بڑھنے کے باوجود ہما را چندہ نہ بڑھے، اگر باوجود اس کے کہ ملازمتوں میں ہر سال ترقی ہو ، صناع اور زمیندار ہر سال اپنی حالت کو بہتر بناتے جائیں ہماری چندہ کی حالت پہلے کی طرح رہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جماعت کا نظم کمزور ہے اور اسکی ذہنیت گر گئی ہے۔پس چندہ بھی ہر سال بڑھتا رہے گا اور اخراجات بھی بڑھتے رہیں گے۔لیکن ہم ایسا انتظام کرنے کی فکر میں ہیں کہ اخراجات میں نہ ہو۔