خطبات محمود (جلد 36) — Page 301
خطبات محمود جلد نمبر 36 301 $1955 اس مختصر خطبہ میں پہلے تو میں اہالیانِ ربوہ کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جب میں اپنا خیال کرتا ہوں کہ مجھے کتنی سردی محسوس ہوتی ہے تو مجھے جلسہ سالانہ کی وجہ سے یہاں آنے والے مہمانوں کا خیال کر کے بڑی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔کیونکہ میرے پاس بار بار یہی رپورٹ آرہی ہے کہ احباب ربوہ نے جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لیے اپنے مکانات پیش کرنے میں اُس کشادہ دلی سے کام نہیں لیا جو ایک مومن خدا تعالیٰ کے مہمانوں کے لیے دکھایا کرتا ہے۔مجھے بارہا کہا گیا ہے کہ جو دوست خاندانوں سمیت یہاں آرہے ہیں اور انہوں نے یہاں رہنے کے لیے عارضی طور پر ایک ایک دو دو کمرے مانگے ہیں اُن کے لیے اس وقت تک بہت ہی کم جگہ ملی ہے۔بلکہ غالباً تین چار سو درخواستیں آئی تھیں جن میں سے صرف 130 احباب کے لیے منتظمین انتظام کر سکے ہیں۔باقی عورتیں اور بچے کیا کریں گے؟ ذرا اس بات کا خیال تو کرو کہ وہ لوگ روپیہ خرچ کر کے یہاں آئیں گے ، ریل کی کھچا کھچ اور دھکا پیل کو برداشت کرتے ہوئے یہاں آئیں گے۔پھر یہ خیال کرو کہ وہ کوئی محل نہیں مانگتے ، وہ کوئی مکان نہیں مانگتے بلکہ ایک ایک دو دو کمرے مانگتے ہیں۔اگر انہیں ایک ایک دو دو کمرے بھی نہ ملے تو یہ بات اُن کے لیے کتنی تکلیف کا موجب ہوگی۔یا اگر اس سردی میں انہیں مناسب جگہ نہ ملی تو اُن کی صحت کو کتنا نقصان ہوگا۔ہمارے لیے تو ایک احمدی کی جان بھی بڑی قیمتی ہے اس لیے کہ بھائی نے بھائی پر ، بیوی نے خاوند پر ، خاوند نے بیوی پر ، باپ نے بیٹے پر اور بیٹے نے باپ پر زور لگایا اور انہیں لمبے عرصہ تک تبلیغ کی تب جا کر وہ احمدی ہوئے۔پس اس محنت کے پھل کی بہت زیادہ قیمت ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔پس ربوہ کے دوستوں سے میں کہتا ہوں کہ وہ قربانی کا نمونہ دکھائیں اور مہمانوں کے لیے اپنے مکانات پیش کریں تا کہ جہاں تک ہو سکے جلسہ سالانہ پر آنے والوں کے لیے زیادہ سے زیادہ رہائش کا انتظام ہو سکے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ کوئی تکلیف محسوس نہ کریں اور سردی کی وجہ سے کسی بیماری کا شکار نہ ہوں بلکہ وہ خیریت سے یہاں آئیں اور خیریت سے یہاں سے واپس جائیں۔پس ایک تو جلسہ سالانہ پر آنے والوں کے لیے اپنے مکانات پیش کرو۔اور دوسرے اپنی خدمات پیش کرو۔جلسہ سالانہ پر چونکہ دوست بڑی کثرت سے آتے ہیں اس لیے کام